
لاہور ایک بار پھر زرد رنگ میں نہا گیا۔ فضا میں پتنگوں کی ڈوریں، چھتوں پر قہقہے، گلیوں میں ہلچل اور آسمان پر رنگ بکھرتے دکھائی دیے۔ طویل وقفے کے بعد بسنت کی واپسی نے شہرِ لاہور کو وہ منظر لوٹا دیا جو برسوں سے صرف یادوں اور تصویروں تک محدود ہو چکا تھا۔ اس بار بسنت کا آخری دن خوشی، احتیاط اور روایت کے ایک نازک امتزاج کے طور پر سامنے آیا۔
اتوار کی صبح سے ہی پرانے شہر، اندرونِ لاہور، ماڈل ٹاؤن، گلبرگ اور دیگر علاقوں میں چھتیں آباد ہونا شروع ہو گئیں۔ بچے، نوجوان اور بزرگ سبھی زرد لباس میں ملبوس دکھائی دیے۔ کہیں بانس کی پتنگیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں تو کہیں ڈھول کی تھاپ پر رقص ہوتا نظر آیا۔ بسنت کا آخری دن گویا ایک اجتماعی جشن تھا، جس میں شہر کی دھڑکن تیز محسوس کی جا سکتی تھی۔
تاہم اس بار بسنت محض بے فکری کا نام نہیں تھی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے طے کردہ حفاظتی ضوابط ہر جگہ زیرِ بحث رہے۔ کیمیکل ڈور پر پابندی، موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی تدابیر، بجلی کی تاروں اور چھتوں پر نگرانی—یہ سب اس بات کی یاد دہانی تھے کہ ماضی کے تلخ حادثات کو دہرانا نہیں۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں حساس مقامات پر تعینات رہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل اعلانات کیے جاتے رہے۔
Cricket star Haris Rauf – Basant returns to Lahore after 19 years as kites rise again and Pakistan celebrates with Lahoris #basant #basantfestival #phiraaibasant pic.twitter.com/5QSXKLerap
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) February 7, 2026
شہر کے کئی حصوں میں بسنت کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ پتنگ فروشوں، ڈور بنانے والوں، روایتی کھانوں اور زرد مٹھائیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ ہوٹلوں اور چھتوں والے ریستورانوں میں خصوصی تقاریب منعقد کی گئیں، جہاں لاہور کی ثقافت ایک بار پھر زندہ نظر آئی۔
بسنت کے آخری دن کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ بہت سے شہریوں نے اسے خاموشی اور احتیاط کے ساتھ منانے کو ترجیح دی۔ کئی خاندانوں نے گھروں تک محدود رہتے ہوئے بچوں کے ساتھ سادہ پتنگ بازی کی، تاکہ خوشی بھی برقرار رہے اور کسی نقصان کا اندیشہ بھی نہ ہو۔ یہ رویہ شاید اس شعور کی علامت تھا جو وقت کے ساتھ لاہور کے باسیوں میں پروان چڑھا ہے۔
شام ڈھلنے کے ساتھ ہی آسمان پر پتنگوں کی تعداد کم ہونے لگی، مگر چھتوں پر بیٹھے لوگ دیر تک اس دن کو یادگار بنانے میں مصروف رہے۔ بسنت کا آخری دن صرف ایک تہوار کا اختتام نہیں تھا بلکہ ایک سوال بھی چھوڑ گیا: کیا لاہور اپنی روایت کو محفوظ طریقے سے آگے بڑھا سکتا ہے؟
اس بار بسنت نے امید کی ایک ڈور تھمائی—کہ اگر خوشی کے ساتھ ذمہ داری بھی نبھائی جائے تو لاہور ایک بار پھر اپنی پہچان، اپنی ثقافت اور اپنے رنگوں کو بغیر خوف کے اپنا سکتا ہے۔ بسنت کا آخری دن ختم ہوا، مگر شہر کے دل میں یہ خواہش باقی رہی کہ یہ رنگ ہر سال لوٹ کر آئیں، محفوظ، خوشگوار اور زندہ۔
UrduLead UrduLead