پیر , فروری 9 2026

نیپرا کے مجوزہ سولر قوانین پر شدید تنقید

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور پاور ڈویژن کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جب مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ سولر قواعد و ضوابط پاکستان میں تیزی سے فروغ پانے والی شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی اور ملک کو مہنگے، غیر مؤثر اور غیر مستحکم بجلی نظام کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہیں۔

یہ تنقید نیپرا کے مجوزہ پروزیومرز ریگولیشنز 2025 پر ہونے والی طویل عوامی سماعت کے دوران سامنے آئی۔ اگرچہ مسودہ نیپرا نے تیار کیا، تاہم اس کا دفاع زیادہ تر پاور ڈویژن اور اس سے وابستہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)، بشمول کے-الیکٹرک، نے کیا۔

سماعت میں تھنک ٹینکس، سیاسی رہنماؤں، چیمبرز آف کامرس، سولر انسٹالرز، صنعتکاروں اور صارفین نے شرکت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مجوزہ ترامیم نہ صرف پاکستان کے صاف توانائی کی جانب سفر کو نقصان پہنچائیں گی بلکہ صارفین کے حقوق متاثر ہوں گے اور یہ اقدامات پیرس معاہدے اور اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف سے بھی متصادم ہیں۔

مجوزہ تبدیلیوں میں سب سے اہم نیٹ میٹرنگ کے نظام کو ختم کر کے نیٹ بلنگ متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس کے تحت سولر صارفین کی اضافی بجلی کہیں کم نرخ پر خریدی جائے گی۔ مسودے کے مطابق موجودہ رجسٹرڈ پروزیومرز کے لیے برآمد شدہ یونٹس کا حساب تین ماہ کے بجائے ایک ماہ تک محدود کر دیا جائے گا، جبکہ ان کے دیگر معاہداتی نکات سات سالہ مدت پوری ہونے تک برقرار رہیں گے۔ نئے پروزیومرز کے لیے پانچ سالہ معاہدہ تجویز کیا گیا ہے اور انہیں برآمد شدہ بجلی کے عوض صرف 11 روپے فی یونٹ ادا کیے جائیں گے، جو موجودہ تقریباً 26 روپے فی یونٹ سے کہیں کم ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے ان تجاویز کو “بدعنوان، غیر مؤثر، غیر قابلِ اعتماد اور ناقابلِ برداشت” بجلی نظام کے تحفظ کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سولر توانائی نے دیہی کسانوں، درزیوں، ویلڈرز اور چھوٹے کاروباری افراد کو مہنگی اور غیر مستحکم بجلی سے نجات دلائی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی ان ضوابط کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور الزام لگایا کہ بجلی کمپنیاں خراب ٹرانسفارمرز کے اخراجات بھی صارفین پر ڈال دیتی ہیں۔

تھنک ٹینکس نے خبردار کیا کہ چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی حوصلہ شکنی سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی، توانائی کے تحفظ، زرمبادلہ کی بچت اور صنعتی مسابقت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ بعض ماہرین نے تجویز دی کہ حکومت اضافی سولر بجلی خرید کر سالانہ کروڑوں ڈالر کے کاربن کریڈٹس حاصل کر سکتی ہے۔

سماعت کے طریقۂ کار پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ نیپرا نے متبادل تجاویز پیش کرنے کی اجازت نہیں دی، زیادہ تر مقررین کو صرف تین منٹ دیے گئے جبکہ پاور ڈویژن کو ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت ملا۔ لائیو نشریات کی درخواست مسترد کی گئی اور صوبائی دارالحکومتوں میں سماعتیں منعقد کرنے کا مطالبہ بھی نظر انداز کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ شکایات بھی سامنے آئیں کہ بعض ڈسکوز نے نئے سولر کنکشنز کی درخواستیں روک دی ہیں اور موجودہ پروزیومرز کو غلط بل بھیجے جا رہے ہیں۔

نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار اور رکن (ڈویلپمنٹ) مقصود انور نے ڈسکوز کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ایسے فیصلے واپس لیے جائیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ انہوں نے بجلی کمپنیوں سے تفصیلی رپورٹس بھی طلب کر لیں۔

پاور ڈویژن کے حکام نے مجوزہ ضوابط کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات سولر توانائی کی پائیدار ترقی اور گرڈ کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں آن گرڈ سولر صلاحیت تقریباً 7 ہزار میگاواٹ جبکہ آف گرڈ صلاحیت 13 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث وولٹیج کے مسائل، بیک فیڈنگ اور لوڈ میں اچانک اتار چڑھاؤ جیسے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ ایک فیصد سے بھی کم پروزیومرز—تقریباً 4 لاکھ صارفین—موجودہ نظام کے تحت 2026 میں 3 کروڑ 85 لاکھ غیر سولر صارفین پر 270 ارب روپے کا بوجھ ڈالیں گے، جو 2034 تک بڑھ کر 628 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ مجموعی لاگت 4.6 کھرب روپے تک جا سکتی ہے۔ ان کے بقول مجوزہ تبدیلیاں اس بوجھ کو نمایاں حد تک کم کر دیں گی۔

تاہم سرکاری وضاحتوں کے باوجود بیشتر شرکاء قائل نہ ہو سکے اور ان کا مؤقف تھا کہ مجوزہ قواعد و ضوابط صارفین اور سبز توانائی کے بجائے بجلی کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ سماعت نے پاکستان کی توانائی پالیسی میں پائے جانے والے گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا، جہاں قابلِ تجدید توانائی کے اہداف اور مالی و تکنیکی مشکلات کے درمیان توازن ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آئی سی سی-پی سی بی کے درمیان اہم اجلاس جاری

پاکستان بمقابلہ بھارت میچ کے بائیکاٹ پر غور آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے