
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کل سے 30 فیصد تک بارش کا امکان ہے، تاہم ایئر کوالٹی انڈیکس 267 تک پہنچنے کے بعد شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔
لاہور میں کل سے بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ فضائی آلودگی کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا موجودہ درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہوا کی رفتار 2 کلو میٹر فی گھنٹہ رہی جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 47 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ادارے کے مطابق کل سے شہر میں 30 فیصد تک بارش کا امکان ہے جس سے موسم میں عارضی بہتری متوقع ہے۔ فروری کے اختتام اور مارچ کے آغاز میں ملک کے بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 267 ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد لاہور آلودہ ترین شہروں کی عالمی فہرست میں چوتھے نمبر پر پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق 200 سے زائد AQI کی سطح صحت کے لیے انتہائی مضر تصور کی جاتی ہے۔
مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح نمایاں طور پر بلند رہی۔ سی اے پی آر آفس میں AQI 288 ریکارڈ کیا گیا جبکہ ماڈل ٹاؤن میں یہ شرح 257 رہی۔ ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 267 اور سول سیکرٹریٹ میں 234 کی سطح نوٹ کی گئی۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ بچوں، بزرگوں اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آلودہ فضا میں زیادہ دیر قیام سانس، آنکھوں اور گلے کے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
لاہور میں سردیوں کے موسم میں اسموگ کا مسئلہ گزشتہ چند برسوں سے شدت اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین اس کی وجوہات میں ٹریفک کا دباؤ، صنعتی اخراج اور سرحد پار دھواں شامل قرار دیتے ہیں۔ حکومتی سطح پر مختلف اقدامات کے باوجود فضائی معیار میں مستقل بہتری ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متوقع بارش عارضی طور پر فضا صاف کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم پائیدار بہتری کے لیے مربوط ماحولیاتی پالیسی اور سخت نفاذ ناگزیر ہے۔
UrduLead UrduLead