منگل , مارچ 10 2026

پاکستان کا سعودی عرب سے طویل مدتی اقتصادی تعاون

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستان نے مالی استحکام کے لیے سعودی عرب سے ذخائر، تیل سہولت اور دیگر اقتصادی تعاون کو طویل مدت تک بڑھانے کی باضابطہ درخواست کر دی، ذرائع کے مطابق مذاکرات جاری ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب سے طویل المدتی اقتصادی تعاون کے حصول کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور اس سلسلے میں اہم مالی سہولتوں کو توسیع دینے کی باضابطہ درخواست کر دی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی حکومت کو مجموعی طور پر آٹھ اہم درخواستیں ارسال کی ہیں جن کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ کم کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ذخائر کو دس سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کیا جائے تاکہ قلیل مدتی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہو اور مالی منصوبہ بندی میں آسانی پیدا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ڈیفرڈ ادائیگی کے تحت تیل کی سہولت کو موجودہ 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر کرنے اور اس کی مدت میں توسیع کی بھی درخواست کی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کو بنیاد بنا کر تقریباً دس ارب ڈالر کی سکیورٹائزیشن کے منصوبے پر بھی سعودی حکام سے تعاون مانگا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی مالیاتی منڈیوں سے کم لاگت پر فنڈز حاصل کرنا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس وقت بڑھتی ہوئی عالمی تیل قیمتوں اور خطے میں کشیدگی کے باعث اضافی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد درآمدی بل بڑھنے کا خدشہ ہے جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ متاثر ہو سکتا ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ دوست ممالک سے طویل مدتی مالی سہولتیں حاصل کرنا معاشی استحکام کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب تکمیل کے لیے بیرونی فنانسنگ کا بندوبست ایک اہم شرط ہے، جس کے تحت دوست ممالک کی مالی معاونت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے ایک جامع اقتصادی تعاون پیکج پر بات چیت جاری ہے جس میں توانائی، سرمایہ کاری، ذخائر اور مالی سہولتوں کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے بعد ان مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک جلد کسی حتمی پیش رفت تک پہنچ سکتے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سعودی عرب کی جانب سے طویل مدتی مالی تعاون کی منظوری مل جاتی ہے تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا بلکہ آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل، روپے کے استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، جس سے آئندہ مالی سال کے اقتصادی اہداف حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ہاکی ٹیم کا اسلام آباد ایئرپورٹ پر شاندار استقبال

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم مصر میں ایف آئی ایچ مردوں ہاکی ورلڈ کپ 2026 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے