منگل , ستمبر 15 2026
بریکنگ نیوز

راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں نیشنل ایکوئیوَلنس بورڈ امتحان کا کامیاب انعقاد

 راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں نیشنل ایکوئیوَلنس بورڈ امتحان دیتے ہوئے طلبہ

راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی (آر ایم یو) نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے قوانین اور معیار کے مطابق دوسرا نیشنل ایکوئیوَلنس بورڈ امتحان کامیابی سے منعقد کیا۔

یہ کمپیوٹر پر مبنی امتحان چین، امریکا، برطانیہ، جارجیا، ایران، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان سمیت 10 ممالک میں زیر تعلیم پاکستانی نژاد میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ نے دیا۔

پس منظر: امتحان کا مقصد اور اہمیت

نیشنل ایکوئیوَلنس بورڈ امتحان سال میں دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے تاکہ ان طلبہ کے علم، طبی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے جنہوں نے کسی غیر ملکی ادارے میں میڈیکل یا ڈینٹل پروگرام جزوی طور پر مکمل کیا ہو اور اب وہ پاکستان کے کسی میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں منتقلی کے خواہاں ہوں۔

یہ امتحان ان ہزاروں پاکستانی طلبہ کے لیے اہم موقع تصور کیا جاتا ہے جو بیرون ملک تعلیم کے بعد وطن واپسی اور اپنے ملک میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کے خواہشمند ہیں۔ حالیہ برسوں میں غیر ملکی میڈیکل تعلیم کے رجحان میں اضافے کے باعث اس امتحان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

نتائج اور آئندہ لائحہ عمل

امتحان کا نتیجہ ایک ہفتے کے اندر متوقع ہے۔ نیشنل ایکوئیوَلنس بورڈ امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو پی ایم اینڈ ڈی سی کی جانب سے این او سی جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے وہ پاکستان کے تسلیم شدہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں و جامعات میں منتقلی کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ تاہم حتمی منتقلی متعلقہ ادارے میں نشستوں کی دستیابی اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔

سوشل میڈیا اور طلبہ کا ردعمل

امتحان کے انعقاد کے بعد سوشل میڈیا پر طلبہ اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کئی طلبہ نے امتحان کے شفاف اور کمپیوٹر پر مبنی طریقہ کار کو سراہا، جبکہ کچھ نے نتائج کے جلد اجراء اور نشستوں کی دستیابی سے متعلق وضاحت طلب کی۔ تعلیمی حلقوں میں اس بات پر بھی گفتگو جاری ہے کہ غیر ملکی جامعات سے واپس آنے والے طلبہ کے لیے مزید سہولیات فراہم کی جائیں۔

ماہرین کا تجزیہ

تعلیمی ماہرین کے مطابق نیشنل ایکوئیوَلنس بورڈ امتحان پاکستانی طلبہ کے لیے ایک اہم معیار کا کام دیتا ہے جو یہ یقینی بناتا ہے کہ غیر ملکی اداروں سے واپس آنے والے طلبہ پاکستانی میڈیکل تعلیم کے معیار پر پورا اتریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس امتحان کے ذریعے نہ صرف طلبہ کی اہلیت کی جانچ ہوتی ہے بلکہ ملک میں میڈیکل تعلیم کے معیار کو بھی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم انہوں نے نشستوں کی محدود دستیابی کو ایک چیلنج قرار دیا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فیول ریلیف اسکیم کا اعلان — وزیر خزانہ اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں 75 ارب روپے کے فیول ریلیف پیکج کی منظوری، اسلام آباد

فیول ریلیف اسکیم کو منظوری، ای سی سی نے وزیراعظم کے پیکج کے لیے 75 ارب روپے مختص کر دیے

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے