منگل , ستمبر 15 2026
بریکنگ نیوز

یوفون کی ای اینڈ برانڈنگ روک دی گئی، پرائیویٹائزیشن کمیشن کا بڑا فیصلہ

یوفون کے لوگو کے ساتھ ای اینڈ برانڈنگ کی مجوزہ تبدیلی کو ظاہر کرتی تصویر

پرائیویٹائزیشن کمیشن (پی سی) نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو یوفون کے مجوزہ یوفون ای اینڈ برانڈنگ کی منظوری دینے سے روک دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ متعلقہ حکومتوں کے درمیان ریزرو ایشو ہے اور اس کی منظوری صرف پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں ہی دے سکتی ہیں۔

پی ٹی اے کے چیئرمین نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن نے ریگولیٹر کو ہدایت دی ہے کہ یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد یوفون کے برانڈ نام میں مجوزہ تبدیلی کی منظوری پر آگے نہ بڑھا جائے۔ چیئرمین نے کہا کہ یہ معاملہ دونوں حکومتوں کے درمیان وعدوں سے جڑا ہے، اس لیے صرف ریگولیٹری سطح پر اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

پس منظر: انضمام اور برانڈنگ کی تجویز

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے یوفون ای اینڈ برانڈنگ کے حوالے سے تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا اور متعلقہ حکام کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری آئی ٹی و ٹیلی کام نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے یوفون کا برانڈ نام تبدیل کر کے ای اینڈ رکھنے کی اجازت کے لیے پی ٹی اے سے رابطہ کیا تھا۔ کمیٹی نے یوفون-ٹیلی نار انضمام کے بعد یوفون کے نام میں مبینہ تبدیلی کا معاملہ بھی زیر بحث لایا۔

سیکرٹری کے مطابق مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) اور پی ٹی اے کی جانب سے مجوزہ تبدیلی کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں اور معاملہ اس وقت مشاورت کے مرحلے میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قائم شدہ یوفون برانڈ کو ای اینڈ سے تبدیل کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

سوشل میڈیا اور صارفین کا ردعمل

یوفون ای اینڈ برانڈنگ کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا گیا۔ کئی صارفین نے یوفون کے مقامی برانڈ تشخص کو برقرار رکھنے کی حمایت کی، جبکہ کچھ نے انضمام کے بعد بہتر خدمات اور جدید ٹیکنالوجی کی توقع ظاہر کی۔ ٹیلی کام صارفین کے حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری رہی کہ برانڈ کی تبدیلی کا صارفین کی خدمات پر کیا اثر پڑے گا۔

ماہرین کا تجزیہ

ٹیلی کام اور ریگولیٹری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یوفون ای اینڈ برانڈنگ کا معاملہ محض ایک کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ دو ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں سے جڑا حساس معاملہ ہے، اسی لیے پرائیویٹائزیشن کمیشن کی مداخلت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مسابقتی کمیشن اور پی ٹی اے کے مابین مختلف آراء اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ملکی ریگولیٹری اداروں میں بھی اس تبدیلی پر اتفاق رائے موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ آنے تک صارفین اور سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہے گا۔

یوفون کے لوگو کے ساتھ ای اینڈ برانڈنگ کی مجوزہ تبدیلی کو ظاہر کرتی تصویر

About Aftab Ahmed

Check Also

فیول ریلیف اسکیم کا اعلان — وزیر خزانہ اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں 75 ارب روپے کے فیول ریلیف پیکج کی منظوری، اسلام آباد

فیول ریلیف اسکیم کو منظوری، ای سی سی نے وزیراعظم کے پیکج کے لیے 75 ارب روپے مختص کر دیے

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے