
پاکستان میں 23 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریہ (SPI) میں 0.91 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات اور ٹماٹر سمیت چند بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ رہا۔
پاکستان بیورو شماریات (PBS) کے مطابق 23 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریہ (SPI) میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.91 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ پیٹرولیم مصنوعات، ٹماٹر اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
ادارے کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 39.92 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل 15.87 فیصد، انڈے 7.31 فیصد اور پیٹرول 5.23 فیصد مہنگا ہوا۔
اسی طرح آلو کی قیمت میں 3.70 فیصد، ایل پی جی میں 0.91 فیصد، پکی ہوئی دال میں 0.72 فیصد، لیپٹن چائے میں 0.59 فیصد، سرسوں کے تیل میں 0.45 فیصد، لہسن میں 0.41 فیصد، پکے ہوئے گائے کے گوشت میں 0.36 فیصد اور واشنگ صابن میں 0.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب ہفتے کے دوران مرغی کی قیمت میں 4.66 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ کیلے 1.72 فیصد سستے ہوئے۔ مونگ کی دال اور ماش کی دال کی قیمتوں میں بالترتیب 1.08 فیصد اور 1.07 فیصد کمی آئی۔
اس کے علاوہ آئی آر آر آئی چاول، مسور کی دال، چینی اور چنے کی دال کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان بیورو شماریات کے مطابق زیر جائزہ 51 اشیائے ضروریہ میں سے 22 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی جبکہ 21 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
سالانہ بنیاد پر حساس قیمت اشاریہ میں 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں مہنگائی کے مسلسل دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیاد پر ٹماٹر کی قیمت میں 253.04 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ پیاز 81.55 فیصد اور آٹا 74.13 فیصد مہنگا ہوا۔ ایل پی جی کی قیمت 46.87 فیصد، ڈیزل 31.92 فیصد، پہلی سہ ماہی کے بجلی کے نرخ 22.79 فیصد اور پیٹرول 20.32 فیصد بڑھ گئے۔
اسی عرصے میں مٹن 16.02 فیصد، سرخ مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد، گائے کا گوشت 13.09 فیصد، کیلے 12.06 فیصد اور سادہ ڈبل روٹی 9.69 فیصد مہنگی ہوئی۔
دوسری جانب سالانہ بنیاد پر آلو کی قیمت میں 32.69 فیصد، چنے کی دال میں 21.48 فیصد، چینی میں 17.67 فیصد، پاؤڈر نمک میں 14.09 فیصد اور مرغی کی قیمت میں 13.73 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
حساس قیمت اشاریہ ملک بھر کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے اور اسے قلیل مدتی مہنگائی کے رجحانات جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تازہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور سبزیوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور مہنگائی پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
UrduLead UrduLead