
ماہرین صحت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ مون سون کے دوران پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، ڈینگی، ملیریا اور موسمی انفیکشن سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔
پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی ماہرین صحت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی صورت میں پانی اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی کا استعمال، حفظان صحت کے اصولوں پر عمل اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا بیماریوں سے بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق شہری صرف ابلا ہوا، فلٹر شدہ یا محفوظ بوتل بند پانی استعمال کریں اور مشکوک ذرائع سے پانی پینے سے گریز کریں۔ پھلوں اور سبزیوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کیا جائے تاکہ آلودہ پانی سے منتقل ہونے والے جراثیم سے بچا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بارشوں کے دوران جگہ جگہ جمع ہونے والا پانی ڈینگی، ملیریا اور چکن گونیا پھیلانے والے مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ گھروں اور دفاتر کے اطراف کھڑے پانی کو فوری ختم کریں، مچھر مار اسپرے یا ریپیلنٹ استعمال کریں، مکمل آستین والے کپڑے پہنیں اور ضرورت پڑنے پر مچھر دانی کا استعمال کریں۔
ماہرین صحت نے خوراک کے حوالے سے بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تازہ اور گرم کھانا کھایا جائے، غیر معیاری یا غیر صحت بخش کھلے کھانوں سے اجتناب کیا جائے اور کھانے سے پہلے اور بیت الخلا کے استعمال کے بعد صابن سے ہاتھ ضرور دھوئے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بارش میں بھیگنے کے بعد فوراً خشک کپڑے پہننے اور جوتوں و جرابوں کو اچھی طرح خشک کرنے سے جلدی اور فنگس سے متعلق بیماریوں کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نزلہ، زکام، اسہال، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اے اور ای جیسی بیماریوں کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی کہ بارشوں کے دوران سیلابی یا زیر آب سڑکوں پر سفر سے گریز کریں، گاڑی احتیاط سے چلائیں اور غیر ضروری سفر سے بچیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں، بزرگوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ یہ افراد موسمی بیماریوں سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین صحت نے کہا کہ مناسب احتیاط، صاف پانی، متوازن غذا، صفائی کا خیال اور مچھروں کی افزائش روکنے کے اقدامات اختیار کرکے مون سون کے موسم میں بیشتر بیماریوں سے مؤثر انداز میں بچاؤ ممکن ہے۔
UrduLead UrduLead