ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں کمی سے قلیل مدتی مہنگائی میں کمی آئی، تاہم سالانہ بنیادوں پر دباؤ برقرار ہے

پاکستان میں حساس قیمت اشاریہ 16 اپریل 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 0.69 فیصد کم ہوا، جو ایندھن اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتا ہے، یہ اعداد و شمار Pakistan Bureau of Statistics نے جاری کیے۔
حساس قیمت اشاریہ ہفتہ وار بنیاد پر 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں کو مانیٹر کرتا ہے، جو ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے جمع کی جاتی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جاری مہنگائی کے دباؤ کے بعد صارفین کو عارضی ریلیف ملا ہے۔
ہفتے کے دوران سب سے بڑی کمی ایندھن کی قیمتوں میں دیکھی گئی۔ ڈیزل کی قیمت میں 25.77 فیصد جبکہ پیٹرول میں 3.10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ایل پی جی کی قیمتیں 4.15 فیصد کم ہوئیں، جس سے گھریلو اخراجات میں کچھ کمی آئی۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی عالمی تیل کی قیمتوں اور مقامی پالیسی ایڈجسٹمنٹس کا نتیجہ ہے۔
خوراک کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ مرغی کی قیمت 10.07 فیصد کم ہوئی جبکہ پیاز 6.63 فیصد اور آٹے کی قیمت 3.34 فیصد نیچے آئی۔ کیلے، لہسن اور دالوں کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ہوئی، جو بہتر زرعی سپلائی کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس کے برعکس کچھ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔ ٹماٹر کی قیمت 6.27 فیصد بڑھی جبکہ روٹی 3.27 فیصد اور انڈے 2.09 فیصد مہنگے ہوئے۔ تازہ دودھ اور دہی کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ہوا، جو ڈیری سیکٹر میں لاگت کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
51 اشیاء میں سے 17 کی قیمتیں بڑھیں، 17 کم ہوئیں جبکہ 17 مستحکم رہیں۔ یہ توازن ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کا رجحان مکمل طور پر یکطرفہ نہیں بلکہ مختلف عوامل سے متاثر ہے۔
سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح اب بھی 12.16 فیصد ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ مجموعی طور پر قیمتوں کا دباؤ برقرار ہے۔ ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 69.35 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایل پی جی 60.40 فیصد مہنگی ہوئی۔ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بالترتیب 49.22 فیصد اور 44.10 فیصد بڑھیں۔
دیگر ضروری اشیاء بھی سالانہ بنیادوں پر مہنگی ہوئیں۔ پیاز کی قیمت 42.67 فیصد بڑھی جبکہ گیس چارجز میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔ آٹے کی قیمت 28.80 فیصد اور مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد مہنگا ہوا۔ گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں مٹن اور بیف بالترتیب 14.67 فیصد اور 13.27 فیصد بڑھے۔
دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی ہوئی۔ آلو کی قیمت 45.43 فیصد کم ہوئی جبکہ چنے کی دال 20 فیصد سستی ہوئی۔ چینی کی قیمت میں 11.65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو صارفین کے لیے جزوی ریلیف کا باعث بنی۔
پاکستان میں مہنگائی گزشتہ دو سال کے دوران شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ 2023 میں مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی، جس کی بڑی وجوہات روپے کی قدر میں کمی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور مالیاتی سختی تھیں۔ اگرچہ اب مہنگائی میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم یہ اب بھی بلند سطح پر ہے۔
اسٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی کے مطابق مہنگائی میں بتدریج کمی متوقع ہے، لیکن یہ توانائی کی قیمتوں اور شرح مبادلہ سے متاثر رہ سکتی ہے۔ مرکزی بینک نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے محتاط پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔
زرعی شعبہ، جو حساس قیمت اشاریے پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے، ملا جلا رجحان دکھا رہا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گندم کی پیداوار بہتر رہی ہے، لیکن ترسیل کے مسائل اور لاگت اب بھی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
توانائی کی قیمتیں بھی مہنگائی کے رجحان میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی عالمی قیمتوں کے مطابق مقامی ایندھن کی قیمتوں میں رد و بدل کرتی رہتی ہے، جس کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر ہونے والی کمی عارضی ہو سکتی ہے اور اس کا انحصار سپلائی اور عالمی قیمتوں پر ہے۔ اگر ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں کمی برقرار رہی تو مہنگائی میں مزید کمی ممکن ہے۔
مستقبل میں مہنگائی کا دارومدار عالمی منڈیوں، مقامی سپلائی اور حکومتی پالیسیوں پر ہوگا۔ اگر ایندھن کی قیمتیں دوبارہ بڑھیں یا روپے کی قدر میں کمی ہوئی تو مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلیل مدتی بنیادوں پر ریلیف ضرور ملا ہے، لیکن مجموعی مہنگائی کے خطرات اب بھی موجود ہیں، جس کے باعث حکومت اور پالیسی سازوں کی توجہ قیمتوں کے استحکام پر مرکوز ہے۔
UrduLead UrduLead