
NEPRA کا مارچ 2026 کے لیے بجلی نرخوں میں 0.266 روپے فی یونٹ FCA اضافہ زیر غور ہے، جس سے ملک بھر کے صارفین اور صنعتیں متاثر ہوں گی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے مارچ 2026 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے لیے 0.2660 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ اضافے کی درخواست پر 28 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں عوامی سماعت مقرر کی ہے۔ یہ درخواست سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ نے جمع کرائی ہے۔
مجوزہ اضافہ بجلی کے بلوں میں نمایاں اثر ڈال سکتا ہے اور تمام تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر لاگو ہوگا۔ سماعت میں آن لائن شرکت کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ NEPRA FCA کا یہ عمل ملک کے پاور ٹیرف سسٹم میں ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا حصہ ہے۔
نیپرا پاکستان کا خود مختار ریگولیٹری ادارہ ہے جو 1997 کے نیپرا ایکٹ کے تحت قائم ہوا۔ یہ ادارہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے لائسنس جاری کرتا ہے۔ یہ ادارہ ٹیرف کا تعین اور نظام کی نگرانی بھی کرتا ہے۔
NEPRA FCA میکانزم کے ذریعے ایندھن کی لاگت میں تبدیلی صارفین تک منتقل کی جاتی ہے۔ نیپرا کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ادارہ لاگت اور کارکردگی کے توازن کے لیے ریگولیٹری اقدامات کرتا ہے۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ قومی بجلی نظام کا مرکزی ڈیٹا اکٹھا کرنے والا ادارہ ہے۔ یہ تمام پاور پلانٹس سے پیداوار اور لاگت کی تفصیلات حاصل کرتا ہے۔
مارچ 2026 میں مجموعی بجلی پیداوار 8939 گیگا واٹ گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو خالص ترسیل 8664 گیگا واٹ گھنٹہ رہی۔ ترسیلی نقصانات 2.77 فیصد ریکارڈ ہوئے جو نظام کی کارکردگی کے چیلنجز کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان کا توانائی مکس اب بھی تھرمل ذرائع پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ہائیڈرو پاور نے 2105 گیگا واٹ گھنٹہ پیداوار دی جو کم لاگت ذریعہ ہے۔ نیوکلیئر توانائی نے 1962 گیگا واٹ گھنٹہ فراہم کیا جو مستحکم بیس لوڈ سپلائی ہے۔ ورلڈ بینک کے پاکستان انرجی ڈیٹا کے مطابق کم کاربن ذرائع کا حصہ بڑھ رہا ہے مگر انفراسٹرکچر محدود ہے۔
کوئلے سے 2732 گیگا واٹ گھنٹہ بجلی پیدا ہوئی جو مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ ہے۔ کوئلے کی لاگت 11.1400 سے 15.2324 روپے فی یونٹ کے درمیان رہی۔ آر ایل این جی سے 504 گیگا واٹ گھنٹہ پیداوار ہوئی جس کی لاگت 24.5559 روپے فی یونٹ تک پہنچی۔ فرنس آئل سب سے مہنگا ذریعہ رہا جس کی لاگت 36.1606 روپے فی یونٹ ریکارڈ ہوئی۔ یہ مہنگے ذرائع مجموعی اوسط لاگت بڑھاتے ہیں۔
ونڈ اور سولر ذرائع نے 415 گیگا واٹ گھنٹہ بجلی فراہم کی جو کل پیداوار کا تقریباً پانچ فیصد ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے پاکستان پروفائل کے مطابق قابل تجدید توانائی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم گرڈ انٹیگریشن اور مالی مسائل ترقی کی رفتار کو محدود کرتے ہیں۔
بائیو ماس اور گنے کے فضلے سے 77 گیگا واٹ گھنٹہ بجلی پیدا ہوئی۔ ایران سے درآمدی بجلی 39 گیگا واٹ گھنٹہ رہی جس کی لاگت نسبتاً زیادہ ہے۔ مجموعی اوسط فیول لاگت تقریباً 8.0783 روپے فی یونٹ رہی۔ یہ شرح مختلف توانائی ذرائع کے امتزاج کو ظاہر کرتی ہے۔
CPPA-G نے نیپرا سے 71578 ملین روپے کی وصولی کی درخواست کی ہے۔ اسی بنیاد پر 0.2660 روپے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارف پر تقریباً 53 روپے کا اضافہ متوقع ہے۔ اس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی اب بھی اہم معاشی چیلنج ہے۔
NEPRA FCA کا نظام ہر ماہ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔ یہ نظام بجلی کی حقیقی لاگت صارفین تک منتقل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ تاہم عالمی ایندھن کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اس عمل کو پیچیدہ بناتی ہے۔ حکومت اور ریگولیٹرز کو مسلسل توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔
پاکستان کے توانائی شعبے کی تاریخ میں 1990 کی دہائی کے بعد تھرمل انحصار بڑھا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹس کے مطابق تاخیر شدہ منصوبے اور گردشی قرضہ بڑے مسائل رہے۔ موجودہ اصلاحات قابل تجدید توانائی کے فروغ پر مرکوز ہیں۔
مستقبل میں توانائی اصلاحات، گرڈ اپ گریڈ اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا اہم ہوگا۔ NEPRA FCA جیسے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ نظام صارفین پر فوری اثر ڈالتے رہیں گے۔ پالیسی سازوں کے لیے چیلنج لاگت اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔
UrduLead UrduLead