
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر کی جامعات میں ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگراموں میں داخلوں کے لیے نئی پالیسی نافذ کرتے ہوئے جی آر ای/ہیٹ جنرل اور متعلقہ سبجیکٹ ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا ہے جبکہ اس فیصلے کا اطلاق فال 2026ء کے داخلوں سے ہو گا۔
ایچ ای سی کے کوآرڈینیشن ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لیول 7 اور لیول 8 پروگراموں میں داخلے صرف ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے تحت منعقد ہونے والے جی آر ای/ہیٹ جنرل اور متعلقہ مضمون کے ٹیسٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی جامعات اس فیصلے پر عمل درآمد کی پابند ہوں گی۔
نئی پالیسی کے تحت صرف انہی امیدواروں کے داخلے زیر غور آئیں گے جنہوں نے ایچ ای سی ای ٹی سی کا مقررہ ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا ہو گا۔ ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ جامعات اب ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی داخلوں کے لیے اپنے داخلی یا علیحدہ امتحانات منعقد نہیں کر سکیں گی جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے تیار کردہ ٹیسٹ بھی جی آر ای/ہیٹ کے متبادل تصور نہیں کیے جائیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023ء کی بعض شقیں فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔ ان میں وہ شق بھی شامل ہے جس کے تحت جامعات کو 50 فیصد پاسنگ اسکور کے ساتھ اپنا داخلہ ٹیسٹ لینے کی اجازت حاصل تھی۔ اسی طرح یونیورسٹی سطح پر تیار کردہ جی آر ای/ہیٹ مساوی ٹیسٹ، جس کے لیے 60 فیصد پاسنگ اسکور مقرر تھا، کی شق بھی واپس لے لی گئی ہے۔
ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ نئے نظام کا مقصد ملک بھر میں گریجویٹ داخلوں کے معیار، شفافیت، یکسانیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے۔ کمیشن کے مطابق مرکزی ٹیسٹنگ نظام سے مختلف جامعات کے داخلہ معیار میں ہم آہنگی پیدا ہو گی اور امیدواروں کی جانچ ایک یکساں طریقہ کار کے تحت ممکن ہو سکے گی۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے داخلوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ بہتر ہونے کا امکان ہے، تاہم بعض حلقوں نے جامعات کی خودمختاری اور ان کے داخلی امتحانی نظام محدود ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار کو بہتر بنانے کے لیے یکساں ٹیسٹنگ نظام ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے اور فوری طور پر نافذ العمل ہو گا جبکہ جامعات کو فال 2026ء کے داخلوں کے لیے نئی پالیسی کے مطابق انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
UrduLead UrduLead