جمعرات , مئی 14 2026

پاکستان میں اے لیول ریاضی کا امتحان ملتوی

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اے لیول ریاضی کا پرچہ لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان میں 15 مئی کا امتحان ملتوی کر دیا ہے جبکہ نئے پرچے کی تاریخ 22 مئی تک دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے کہا ہے کہ اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 52 (9709)، جو 12 مئی کو انتظامی زونز 3 اور 4 میں لیا گیا، مقررہ وقت سے پہلے غیر قانونی طور پر شیئر کیا گیا تھا۔ ادارے کے مطابق واقعے کی فوری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ پرچہ کس حد تک لیک ہوا اور اس میں کون ملوث تھا۔

کیمبرج نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ پاکستان میں شراکت دار اداروں سے مشاورت کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 32 (9709) کا امتحان ملتوی کیا جا رہا ہے، جو 15 مئی کو ہونا تھا۔ ادارے نے کہا کہ طلبہ کو نیا پرچہ دیا جائے گا اور جون سیریز کے اندر نئی تاریخ کا اعلان 22 مئی تک کر دیا جائے گا۔

یہ رواں امتحانی سیزن میں پرچہ لیک ہونے کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 30 اپریل کو بھی کیمبرج نے تصدیق کی تھی کہ اے ایس میتھمیٹکس کا ایک اور پرچہ امتحان سے پہلے آن لائن شیئر کیا گیا تھا۔ کیمبرج کے مطابق یہ واقعات امتحانی نظام کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش معلوم ہوتے ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں اے اور او لیول امتحانات برٹش کونسل اور نجی امتحانی مراکز کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی طلبہ کیمبرج کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں جبکہ ان نتائج کو مقامی اور غیر ملکی جامعات داخلوں کے لیے تسلیم کرتی ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق امتحانی ساکھ متاثر ہونے سے طلبہ کے اعتماد اور بین الاقوامی نظامِ تعلیم کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ریڈٹ اور واٹس ایپ پر امتحانی پرچے کی مبینہ تصاویر اور حل شدہ نقلیں گردش کرنے کے بعد معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ بعض طلبہ نے دعویٰ کیا کہ پرچہ امتحان سے کئی گھنٹے پہلے آن لائن فروخت بھی کیا جا رہا تھا۔ تاہم پرچہ سب سے پہلے کہاں لیک ہوا، اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

متاثرہ طلبہ، والدین اور اساتذہ نے امتحان ملتوی ہونے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کئی والدین نے کہا کہ طلبہ نے ایک سال تیاری میں گزارا جبکہ امتحان کے روز اچانک ملتوی ہونے سے ذہنی دباؤ بڑھ گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے کیمبرج کی انتظامی صلاحیت اور امتحانی سکیورٹی پر بھی تنقید کی۔

کیمبرج پاکستان کی ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے کہا کہ ادارے کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ طلبہ کو نقصان نہ پہنچے اور گریڈز کی شفافیت برقرار رہے تاکہ جامعات اور دیگر ادارے نتائج پر اعتماد جاری رکھ سکیں۔ ان کے مطابق فیصلے سینئر ماہرین تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد کرتے ہیں۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے پاکستان میں بین الاقوامی امتحانی نظام کی نگرانی، سائبر سکیورٹی اور امتحانی مراکز کی نگرانی سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کیمبرج امتحانات میں بار بار لیک ہونے کے واقعات جاری رہے تو پاکستان میں اے لیول نظام کی ساکھ اور طلبہ کے اعتماد کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

خاموش سولر انقلاب، توانائی نظام بدلنے لگا

پاکستان میں خاموش سولر انقلاب تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں گھروں، کاروباروں اور زرعی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے