دو نئے اسپاٹ ایل این جی کارگوز کی خریداری کے لیے عالمی ٹینڈر جاری

قطر کا ایک ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے تیزی سے پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، جو ایران جنگ کے آغاز کے بعد خطے سے پاکستان کے لیے روانہ ہونے والا پہلا قطری ایل این جی کارگو بن سکتا ہے۔
عالمی شپنگ ٹریکرز کے مطابق “الخرائطیات” نامی جہاز اپنی منزل کی جانب مسلسل سفر کر رہا ہے اور اس کے راستہ تبدیل کرنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
ممکنہ طور پر اس کارگو کی کامیاب ترسیل پاکستان کے لیے بڑی ریلیف ثابت ہوگی، کیونکہ مارچ کے آغاز میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد قطر سے ایل این جی سپلائی شدید متاثر ہوگئی تھی۔ پاکستان کو قدرتی گیس کی قلت کا سامنا ہے اور ملک کو متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنا پڑے۔
پاکستان اپنی ایل این جی درآمدات کے لیے بڑی حد تک قطر پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطری سپلائی میں تعطل کے باعث ملک میں گیس بحران مزید شدت اختیار کر گیا، جس کے بعد حکومت کو اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی خریداری پر غور کرنا پڑا۔
اسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے دو نئے اسپاٹ ایل این جی کارگوز کی خریداری کے لیے عالمی ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔ ٹینڈر نمبر PLL/IMP/LNGT65 کے تحت دونوں کارگوز ڈیلیورڈ ایکس شپ (DES) بنیادوں پر پورٹ قاسم کراچی پہنچائے جائیں گے۔
ٹینڈر دستاویزات کے مطابق پہلا کارگو 12 سے 16 مئی 2026 کے درمیان جبکہ دوسرا کارگو 24 سے 28 مئی 2026 کے دوران فراہم کیا جائے گا۔ ہر کارگو کا حجم تقریباً 140 ہزار مکعب میٹر رکھا گیا ہے، جس میں 2 فیصد کمی بیشی کی گنجائش ہوگی۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے مطابق بولیاں 11 مئی کو دوپہر 2 بجے تک جمع کرائی جا سکیں گی جبکہ اسی روز ڈھائی بجے انہیں کھولا جائے گا۔ کمپنی نے کہا ہے کہ بڈنگ دستاویزات 11 مئی تک دستیاب رہیں گی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگر قطری جہاز کامیابی سے پاکستان پہنچ جاتا ہے تو حکومت کی فوری اسپاٹ خریداری کی ضرورت کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ تاہم خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان اضافی سپلائی محفوظ بنانے کے لیے ٹینڈر کے عمل کو جاری رکھ سکتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور کسی بھی رکاوٹ سے عالمی ایل این جی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی مہنگی درآمدی گیس، زرمبادلہ کے دباؤ اور توانائی شعبے کے گردشی قرضے جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق ایل این جی کی بروقت دستیابی بجلی گھروں، صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے گیس سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی نئی خریداری حکمت عملی خطے کی بدلتی جغرافیائی صورتحال اور عالمی توانائی مارکیٹ کے دباؤ کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔
UrduLead UrduLead