
پاکستان نے مئی کے لیے اسپاٹ ایل این جی کارگوز کی خریداری کے سلسلے میں موصول ہونے والی کم ترین بولیاں مسترد کر دی ہیں، جن میں بی پی سنگاپور اور ٹوٹل انرجیز کی پیشکشیں شامل تھیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) کو دو مختلف کارگوز کے لیے مجموعی طور پر سات بولیاں موصول ہوئیں۔ یہ ٹینڈر ہنگامی بنیادوں پر جاری کیے گئے تھے تاکہ مئی کے دوران گیس کی طلب پوری کی جا سکے۔
پہلے ایل این جی کارگو، جس کی سپلائی 12 سے 14 مئی کے درمیان مقرر تھی، کے لیے بی پی سنگاپور نے 17.28 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کم ترین بولی دی، جبکہ پیٹروچائنا نے 17.69 ڈالر اور وٹول بحرین نے 17.84 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکش کی۔
دوسرے کارگو، جس کی سپلائی 24 سے 26 مئی کے دوران ہونی تھی، کے لیے ٹوٹل انرجیز نے 16.98 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی سب سے کم بولی جمع کرائی۔ اس کے علاوہ سوکار ٹریڈنگ نے 17.21 ڈالر، پیٹروچائنا انٹرنیشنل نے 17.49 ڈالر اور او کیو ٹریڈنگ نے 18.58 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولیاں دیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے رجحان اور مقامی مالی دباؤ کے پیش نظر دونوں کم ترین بولیاں قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکام کے مطابق توانائی درآمدی لاگت کم رکھنے کے لیے مزید قیمتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پاکستان اپنی گیس ضروریات پوری کرنے کے لیے قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے علاوہ اسپاٹ مارکیٹ سے بھی ایل این جی خریدتا ہے، خصوصاً گرمیوں اور سردیوں میں طلب بڑھنے کے دوران۔ تاہم عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور زرمبادلہ کے دباؤ کے باعث حالیہ مہینوں میں اسپاٹ خریداری حکومت کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
UrduLead UrduLead