
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے مئی 2026 کے لیے اسپاٹ ایل این جی کارگوز کی خریداری کے عمل میں بی پی سنگاپور اور ٹوٹل انرجیز گیس اینڈ پاور لمیٹڈ کو کم ترین بولی دہندہ قرار دے دیا ہے۔
پی ایل ایل کی جانب سے جاری کردہ سرکاری ایویلیوایشن رپورٹ کے مطابق عالمی سپلائرز سے مجموعی طور پر سات بولیاں موصول ہوئیں۔ یہ خریداری سنگل اسٹیج، دو لفافہ طریقہ کار کے تحت ٹینڈر نمبر PLL/IMP/LNGT64 کے ذریعے کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 12 سے 14 مئی 2026 کے دوران سپلائی کیے جانے والے پہلے ایل این جی کارگو کے لیے بی پی سنگاپور نے 17.2848 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کم ترین بولی دی۔
اسی طرح 24 سے 26 مئی 2026 کے دوران سپلائی ہونے والے دوسرے کارگو کے لیے ٹوٹل انرجیز گیس اینڈ پاور لمیٹڈ نے 16.9800 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کم ترین بولی جمع کرائی۔
بولی کے عمل میں ویٹول بحرین، او کیو ٹریڈنگ، سوکار ٹریڈنگ اور پیٹروچائنا انٹرنیشنل سنگاپور سمیت دیگر عالمی کمپنیاں بھی شریک ہوئیں۔ ویٹول بحرین نے پہلے کارگو کے لیے 17.8400 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکش کی، جبکہ سوکار ٹریڈنگ نے دوسرے کارگو کے لیے 17.2108 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی دی۔
پیٹروچائنا انٹرنیشنل سنگاپور نے دونوں کارگوز کے لیے بالترتیب 17.6900 اور 17.4900 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولیاں جمع کرائیں۔
پی ایل ایل کو پہلے کارگو کے لیے تین جبکہ دوسرے کارگو کے لیے چار بولیاں موصول ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق تمام شریک کمپنیوں کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا۔
پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی گیس ضروریات پوری کرنے کے لیے طویل المدتی معاہدوں کے علاوہ اسپاٹ مارکیٹ سے بھی ایل این جی خرید رہا ہے۔ ملک زیادہ تر ایل این جی قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت درآمد کرتا ہے، جبکہ طلب و رسد کے فرق کو پورا کرنے کے لیے اضافی اسپاٹ کارگوز حاصل کیے جاتے ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی ایندھن مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال پاکستان کی ایل این جی درآمدی لاگت پر مسلسل اثرانداز ہو رہی ہے۔
پاکستان کا توانائی شعبہ اس وقت بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کے دباؤ کا بھی سامنا کر رہا ہے، جبکہ حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائر، توانائی نرخوں اور بروقت ایندھن فراہمی کے درمیان توازن قائم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
UrduLead UrduLead