
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے زون تھری اور فور میں قائم غیرقانونی ہاؤسنگ اور ایگرو فارمنگ اسکیموں کے خلاف سخت عوامی انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں اور سرمایہ کاروں کو ان منصوبوں میں پلاٹس کی خرید و فروخت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ ریجنل پلاننگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ متعدد نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے اسپانسرز سوشل میڈیا، اشتہارات اور سائٹ وزٹس کے ذریعے ایسے منصوبوں کی مارکیٹنگ کر رہے ہیں جنہیں سی ڈی اے سے باقاعدہ منظوری حاصل نہیں، اس لیے یہ اسکیمیں غیرقانونی اور غیر مجاز تصور کی جائیں گی۔

اتھارٹی کے مطابق سی ڈی اے آرڈیننس 1960، ماسٹر پلان اسلام آباد، آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشنز 1992 اور پرائیویٹ ہاؤسنگ و ایگرو فارمنگ اسکیمز ریگولیشنز 2023 کے تحت کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم کو منظور شدہ زوننگ قوانین کے خلاف قائم نہیں کیا جا سکتا۔ سی ڈی اے نے واضح کیا کہ ہاؤسنگ اسکیمیں صرف سب زون بی اور سی میں قائم کی جا سکتی ہیں جبکہ فارم ہاؤس اسکیموں کی اجازت صرف سب زون ڈی میں دی گئی ہے۔
پبلک نوٹس میں غیرقانونی اسکیموں کے اسپانسرز کو فوری طور پر تمام غیرقانونی سرگرمیاں بند کرنے کی وارننگ دی گئی ہے جبکہ متعلقہ سی ڈی اے ڈائریکٹوریٹس کو ان منصوبوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے جاری فہرست میں مجموعی طور پر 99 ہاؤسنگ اور ایگرو فارمنگ اسکیموں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں نمایاں منصوبوں میں رائل سٹی ہاؤسنگ اسکیم لہتراڑ روڈ، جاپان ویلی کرپا، گھونی گارڈنز، سمبلی ویلی فیز ون اور ٹو، دھنیال ٹاؤن، کیپیٹل گارڈنز، ڈریم لینڈ سٹی، گرین ایونیو، مروہ ٹاؤن، الرحمان سٹی ویو، گلبرگ ٹاؤن، مدینہ ٹاؤن، پی ٹی وی کالونی، بنی کاہو انکلیو اور یار محمد سوسائٹی شامل ہیں۔
یہ غیرقانونی اسکیمیں لہتراڑ روڈ، سمبلی ڈیم روڈ، کوری روڈ، پارک روڈ، اسلام آباد ہائی وے اور بنی گالا کے اطراف مختلف علاقوں میں قائم ہیں، جس سے وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں غیرمنظم تعمیرات اور غیرقانونی رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
سی ڈی اے نے خبردار کیا ہے کہ بعض ڈویلپرز غیرقانونی ہونے کے باوجود جارحانہ اشتہاری مہمات کے ذریعے شہریوں کو سرمایہ کاری پر راغب کر رہے ہیں۔ اتھارٹی نے عوام کو ہدایت کی کہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری سے قبل اس کی قانونی حیثیت سی ڈی اے سے ضرور چیک کریں تاکہ مالی نقصان اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اسکیموں کے اسپانسرز اپنے منصوبوں کو ریگولرائز کرانا چاہتے ہیں تو وہ متعلقہ قوانین کے مطابق لے آؤٹ پلان جمع کرا کے منظوری حاصل کریں۔
ڈائریکٹر ریجنل پلاننگ سی ڈی اے اعجاز الحسن نے اس نوٹس پر دستخط کیے ہیں جبکہ شہریوں کو مزید معلومات اور تصدیق کے لیے سی ڈی اے ریجنل پلاننگ ڈائریکٹوریٹ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے یہ اقدام وفاقی دارالحکومت میں غیرقانونی تعمیرات، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور جعلی ہاؤسنگ منصوبوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead