
پنجاب حکومت کا نجی شعبے کے ذریعے گندم خریداری کا نیا نظام شدید مشکلات کا شکار ہوگیا ہے، جہاں قیمتوں کے تنازعات، مالیاتی مسائل اور کسانوں کی مزاحمت کے باعث بیشتر نجی کمپنیاں گندم خریدنے میں ناکام رہی ہیں۔
پنجاب حکومت نے 2026 کی پالیسی کے تحت روایتی سرکاری خریداری نظام ختم کرتے ہوئے 11 نجی کمپنیوں کے ذریعے 30 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے بینک قرضوں کے انتظام، 70 فیصد مارک اپ کی ادائیگی، فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے گودام مفت فراہم کرنے اور تقریباً 400 تجربہ کار اہلکاروں کی تعیناتی سمیت کئی مراعات دی تھیں۔
تاہم حکومتی سہولتوں کے باوجود خریداری مہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکی۔ ایک شریک کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ ان کی مالیاتی بولی کائیبور پلس ایک فیصد کی بنیاد پر تھی، مگر بینکوں اور کمپنیوں کے درمیان شرائط پر اتفاق نہ ہوسکا، جس کے بعد کمپنیوں کو کم سازگار شرائط پر سرمایہ حاصل کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق بینک ابتدائی طور پر ستمبر تک تقریباً 9 فیصد مارک اپ وصول کرنے پر آمادہ تھے، جبکہ اس کے بعد ہر ماہ مزید ایک فیصد اضافہ ہونا تھا، جس سے کمپنیوں کے لیے بڑے ذخائر رکھنا مالی طور پر خطرناک بن گیا۔
سب سے بڑا مسئلہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی بلند قیمت بنی۔ مارکیٹ میں گندم تقریباً 3700 روپے فی من فروخت ہونے کے باعث کسانوں نے 3500 روپے فی من کے سرکاری نرخ پر گندم فروخت کرنے میں کم دلچسپی دکھائی۔ بیشتر کسانوں نے بہتر قیمت کے انتظار میں اپنی فصل روک لی یا براہ راست آڑھتیوں اور نجی تاجروں کو فروخت کردی۔
ذرائع کے مطابق 11 میں سے کم از کم 9 کمپنیاں اب تک کوئی گندم خریدنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں، جس سے پورا خریداری منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکام نے پنجاب سے دیگر صوبوں کو گندم کی منتقلی کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی ٹیمیں مختلف مقامات پر گندم کی کھیپیں ضبط کر کے انہیں سرکاری مراکز منتقل کر رہی ہیں۔
ضبط شدہ گندم کو 3500 روپے فی من کے سرکاری نرخ پر خریدا جا رہا ہے۔ صرف رحیم یار خان میں تقریباً 800 ٹن گندم اس طرح حاصل کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس پر تاجروں اور کسانوں نے جبری فروخت کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
سرگودھا میں راولپنڈی کی ایک فلور مل کی گندم کی کھیپ اجازت نامہ ہونے کے باوجود ضبط کر لی گئی اور خریداری مرکز منتقل کر دی گئی۔ اسی نوعیت کی شکایات دیگر اضلاع سے بھی موصول ہو رہی ہیں۔
کسان تنظیموں نے حکومت کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے بیشتر کسان پہلے ہی اپنی نصف فصل 2800 سے 3200 روپے فی من کے درمیان کم نرخوں پر فروخت کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کم از کم امدادی قیمت کا مقصد کسانوں کو نقصان سے بچانا ہوتا ہے، نہ کہ قیمتیں بڑھنے پر مارکیٹ کو کنٹرول کرنا۔ ان کے مطابق حکومت نے اس وقت مداخلت کی جب گندم کی قیمت 3700 روپے فی من تک پہنچ گئی، جبکہ کسان پہلے ہی کم نرخوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہو چکے تھے۔
خالد کھوکھر نے الزام لگایا کہ خریداری مراکز پر فی 100 کلو بوری میں کم از کم 15 کلو وزن ریت اور نمی کے نام پر کاٹا جا رہا ہے جبکہ وزن کرنے والی مشینیں بھی کسانوں کے نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔
پاکستان کسان اتحاد کے ایک اور رہنما میاں عمیر مسعود نے حکومت پر امدادی اسکیموں میں بدانتظامی کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 6 ارب روپے مالیت کے باردانہ کی تقسیم کے سرکاری دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور اس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پنجاب کی نئی گندم خریداری پالیسی نے حکومت، نجی شعبے اور کسانوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال مستقبل میں زرعی منڈی کے استحکام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead