ای سی سی کی منظوری سے قومی گندم پالیسی 2026 کے تحت 30 لاکھ ٹن خریداری ہدف مقرر

حکومت پنجاب نے نئی گندم کی خریداری کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اپریل کے پہلے ہفتے سے باقاعدہ مہم شروع کی جائے گی، جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی جانب سے قومی گندم پالیسی 2026 کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس مہم کے تحت 11 کمپنیاں کسانوں سے مجموعی طور پر 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدیں گی، جس کا آغاز جنوبی پنجاب سے کیا جائے گا جہاں فصل پہلے تیار ہوتی ہے۔ خریدی گئی گندم کو بعد ازاں سرکاری گوداموں میں ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
قومی گندم پالیسی 2026، جس کی حال ہی میں ای سی سی نے منظوری دی، کے تحت گندم کی خریداری کے روایتی سرکاری نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا، حکومتی اخراجات کم کرنا اور مارکیٹ میں شفافیت لانا ہے۔
اس سکیم کے تحت 11 فلور ملز اور کمپنیوں نے مقامی اور بین الاقوامی ٹریڈرز کی ٹیکنیکل بڈز کوالیفائی کر لی ہیں، جبکہ پری کوالیفائی ہونے والی کمپنیوں نے فنانشل بڈز بھی جمع کرا دی ہیں جنہیں آئندہ پانچ روز میں کھولا جائے گا۔ حکومت پنجاب نے ان کمپنیوں کے لیے ابتدائی طور پر 25 لاکھ ٹن گندم خریداری مختص کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فلور ملز اور ٹریڈرز کسانوں سے کھیتوں سے براہ راست 3500 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدیں گے، جس سے کسانوں کو فوری ادائیگی ممکن ہو سکے گی اور بیچولیوں کا کردار کم ہوگا۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں گندم بنیادی غذائی اجناس میں شامل ہے اور ملک سالانہ تقریباً 28 سے 30 ملین ٹن گندم پیدا کرتا ہے، تاہم پیداوار موسمی حالات اور زرعی لاگت کے باعث متاثر ہوتی رہتی ہے۔ حالیہ برسوں میں حکومت کو گندم کے ذخائر، سبسڈی بوجھ اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ای سی سی سے منظور شدہ قومی گندم پالیسی 2026 ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت خریداری کے اہداف کو حقیقت پسندانہ بنایا گیا ہے اور نجی شعبے کو زیادہ کردار دیا گیا ہے تاکہ کارکردگی بہتر ہو سکے۔
جنوبی پنجاب گندم کی پیداوار کا اہم مرکز ہے، جہاں سے جلد خریداری شروع کرنے سے ذخائر کو بروقت بھرنے میں مدد ملے گی اور بعد میں سپلائی میں رکاوٹوں سے بچا جا سکے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بار مربوط حکمت عملی کے تحت خریداری کا عمل تیز اور شفاف رکھا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے حکومتی مالی دباؤ کم ہو سکتا ہے کیونکہ ماضی میں گندم کی خریداری اور سبسڈی پر بھاری اخراجات کیے جاتے رہے ہیں۔ وزارت خزانہ کے اندازوں کے مطابق خوراکی سبسڈیز بجٹ پر نمایاں بوجھ ڈالتی رہی ہیں۔
آنے والے ہفتوں میں گندم خریداری مہم کی کامیابی کا انحصار بروقت عملدرآمد، موسمی حالات اور حکومتی و نجی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے پر ہوگا، جبکہ قومی گندم پالیسی 2026 کے تحت یہ اقدام ملکی غذائی تحفظ اور قیمتوں کے استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead