جمعہ , مارچ 27 2026

پاکستان میں 3 کروڑ مفت درسی کتب کی تقسیم کا فیصلہ

نئے تعلیمی سال میں مکمل فراہمی ممکن نہ ہونے پر طلباء کو جزوی اور پرانی کتب دی جائیں گی

پاکستان میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر تقریباً 3 کروڑ مفت درسی کتب طلباء میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم حکام نے تسلیم کیا ہے کہ تمام طلباء کو نئی کتابیں فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

محکمہ تعلیم کے مطابق کتابوں کی تقسیم ایک مخصوص تناسب کے تحت کی جائے گی، جس میں نرسری سے تیسری جماعت تک کے طلباء کو 100 فیصد نئی کتابیں فراہم کی جائیں گی۔ چوتھی اور پانچویں جماعت کے طلباء کو 80 فیصد جبکہ چھٹی سے نویں جماعت تک کے طلباء کو صرف 50 فیصد درسی کتب دی جائیں گی۔

دسویں جماعت کے طلباء کو مکمل طور پر نئی کتابیں فراہم کی جائیں گی، کیونکہ یہ جماعت بورڈ امتحانات کے لیے اہم تصور کی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ محدود وسائل اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث تمام درجات کے لیے مکمل فراہمی ممکن نہیں رہی۔

ذرائع کے مطابق لاکھوں طلباء کو اس سال بھی پرانی کتابوں پر انحصار کرنا پڑے گا، جو سکولوں میں قائم بک بینک کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ یہ نظام ماضی میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے تاکہ کم وسائل میں زیادہ طلباء کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

محکمہ تعلیم نے بتایا کہ رواں سال 3 کروڑ سے زائد درسی کتب شائع کی گئی ہیں، تاہم اب تک صرف 2 لاکھ 30 ہزار کتابیں تقسیم کی جا سکی ہیں، جس سے ترسیل کے عمل میں سست روی ظاہر ہوتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقسیم کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا۔

پاکستان میں سرکاری سکولوں کے طلباء کی تعداد کروڑوں میں ہے، اور ہر سال درسی کتب کی بروقت فراہمی ایک بڑا انتظامی چیلنج رہی ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق کتابوں کی کمی طلباء کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر ابتدائی جماعتوں میں جہاں بنیادی سیکھنے کا عمل زیادہ اہم ہوتا ہے۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) اور پبلک مینجمنٹ اسکول اتھارٹی (PIMA) کے تحت چلنے والے سکولوں کو بھی اسی مجموعی تعداد میں سے کتابیں فراہم کی جائیں گی، جس سے دستیاب وسائل پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں حکومت نے تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور بجٹ میں اضافے کے دعوے کیے ہیں، تاہم عملی سطح پر درسی کتب کی بروقت اور مکمل فراہمی ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی بینک اور یونیسف کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی سہولیات، بشمول نصابی مواد، کی دستیابی انتہائی ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور داخلوں میں اضافے کے باعث درسی کتب کی طلب ہر سال بڑھ رہی ہے، جبکہ وسائل اس رفتار سے نہیں بڑھ پا رہے۔ اس کے علاوہ پرنٹنگ اور لاجسٹکس کے مسائل بھی تقسیم کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔

آنے والے مہینوں میں درسی کتب کی بروقت فراہمی حکومت کے لیے ایک اہم امتحان ہوگی، کیونکہ تعلیمی سال کے آغاز میں تاخیر طلباء کے سیکھنے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے اور تعلیمی نتائج پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کے دو مقدمات

اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن اور ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے