حکومت محدود مالی گنجائش کے باوجود ہدفی ریلیف کے ماڈل پر کام تیز کر رہی ہے

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 27 مارچ 2026 کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سبسڈی اصلاحات پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں مالیاتی استحکام برقرار رکھتے ہوئے ہدفی ریلیف دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا،
اجلاس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا اور حکام نے بتایا کہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ایندھن کی فراہمی ملک بھر میں مستحکم اور تسلی بخش ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سپلائی چین موثر انداز میں کام کر رہی ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں۔
اجلاس میں ہدفی سبسڈی نظام متعارف کرانے پر زور دیا گیا، جس کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی غور ہوا۔ وزارت آئی ٹی نے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سبسڈی کی شفاف تقسیم کے لیے تجاویز پیش کیں، جن میں نادرا کے ڈیٹا بیس سے انضمام شامل ہے تاکہ مستحق افراد تک براہ راست فائدہ پہنچایا جا سکے اور بدعنوانی کم ہو۔
پاکستان کو ماضی میں غیر ہدفی سبسڈیوں کے باعث مالی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پٹرولیم لیوی حکومت کے اہم ریونیو ذرائع میں شامل ہے، تاہم محدود مالی گنجائش کے باعث حکومت کے لیے وسیع پیمانے پر ریلیف فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
صوبائی نمائندوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایندھن کے استعمال میں بچت کے لیے رویوں میں تبدیلی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ طلب میں کمی سے درآمدی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر مختلف پالیسی آپشنز تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر صارفین تک پہنچایا جانا چاہیے جبکہ طویل مدتی پالیسیوں میں ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پٹرولیم سپلائی کو بہتر انداز میں منظم کیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گزشتہ ایک سال سے جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی میں تبدیلیوں کے باعث غیر مستحکم رہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پٹرولیم درآمدات ملک کے درآمدی بل کا بڑا حصہ ہیں، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے۔
حالیہ برسوں میں حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدوں کے تحت توانائی سبسڈیوں کو محدود کرنے اور بہتر ہدف بندی کی طرف پیش رفت کی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت توانائی نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ اور لاگت کی وصولی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ کسی بھی ریلیف پیکج کو مالیاتی استحکام متاثر کیے بغیر ترتیب دینا ہوگا۔ حکام نے کہا کہ ماضی میں غیر محتاط سبسڈیوں نے مالی خسارے اور قرضوں میں اضافہ کیا تھا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو اصلاحات کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے ٹیکس اور سبسڈی پالیسیوں میں ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کی اہمیت پر زور دیا تاکہ شفافیت اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
انہوں نے ذمہ دارانہ توانائی استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات طویل مدت میں مہنگائی اور مالی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اجلاس کے شرکاء نے ہدفی سبسڈی فریم ورک کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا اور وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ نادرا جیسے اداروں کا کردار مستحق افراد کی درست نشاندہی میں اہم ہوگا۔
پاکستان کے توانائی شعبے میں گزشتہ دہائی کے دوران بتدریج اصلاحات کی گئی ہیں، تاہم عالمی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی نے مقامی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھا ہے، جس کا اثر مہنگائی اور عوامی اخراجات پر پڑ رہا ہے۔
آنے والے مہینوں میں پٹرولیم قیمتوں اور سبسڈی اصلاحات کے فیصلے پاکستان کی توانائی پالیسی اور مہنگائی کے مجموعی رجحان پر اثرانداز ہوں گے، جبکہ حکومت کو مالی گنجائش اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
UrduLead UrduLead