حکومت نے ایس او ای اصلاحات تیز کرتے ہوئے اہم تقرریاں اور فیصلے منظور کیے

اسلام آباد میں کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارہ جات نے جمعرات کو اہم اجلاس میں مختلف سرکاری کمپنیوں کے بورڈز اور پالیسی امور سے متعلق متعدد فیصلوں کی منظوری دے دی، جس کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔
اجلاس میں تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے قائم اسپیشل پرپز وہیکل کے بورڈ میں چار آزاد اور تین سرکاری ارکان کی تقرری کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبہ حکومت سندھ کے اشتراک سے جاری ہے اور اس کا مقصد تھر کے کوئلے کو بجلی گھروں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔
پاکستان میں تھر کے کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 175 ارب ٹن سے زائد ہے، جو ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے توانائی درآمدات کا دباؤ کم کرنے کے لیے مقامی وسائل کے استعمال پر زور دیا ہے۔
کمیٹی نے سرمایہ پاکستان لمیٹڈ کو ختم کرنے کی منظوری بھی دی، جسے نئے ایس او ای گورننس فریم ورک کے تحت غیر ضروری قرار دیا گیا تھا۔ یہ اقدام ایس او ایز ایکٹ 2023 کے تحت جاری اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان میں 200 سے زائد سرکاری ادارے موجود ہیں، جن میں سے کئی مسلسل خسارے میں ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان اداروں کے مجموعی نقصانات 800 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، جس کے باعث اصلاحات ناگزیر ہو گئی ہیں۔
اجلاس میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں کو بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات سے استثنیٰ دینے کی تجویز پر غور کیا گیا، تاہم فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ اس معاملے کا مزید جائزہ لیا جائے اور دوبارہ پیش کیا جائے۔
پاکستان کے گیس شعبے کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں گردشی قرضہ 2.9 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ کم وصولیاں اور ٹیرف میں تاخیر اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔
کمیٹی نے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے بورڈ کی ازسرنو تشکیل کی بھی منظوری دی، جو ملک میں درآمدی ایل این جی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ ایل این جی سے پورا کیا جاتا ہے۔
اسی طرح پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا گیا، کیونکہ اس پر ایس او ایز ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔
پاور سیکٹر میں کمیٹی نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے بورڈز کی تشکیل نو کی منظوری دی۔ یہ دونوں کمپنیاں زیادہ لائن لاسز اور کم ریکوری جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں نقصانات اور کم وصولیاں گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں، جس کا حجم 2.6 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ حکومت ان کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بورڈ اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔
کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ میں ایک آزاد ڈائریکٹر کی تقرری کی منظوری بھی دی، جو ضروری اشیاء کی درآمد و برآمد کے انتظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
مزید برآں، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بورڈ میں یوسف خان کی بطور رکن تقرری کی منظوری دی گئی۔ کراچی بندرگاہ ملک کی سمندری تجارت کا بڑا مرکز ہے اور قومی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اجلاس میں وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے ایس او ای اصلاحات کا عمل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت تیز کیا جا رہا ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد مالی خسارے کم کرنا، شفافیت بڑھانا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
UrduLead UrduLead