حکومت کا ملٹی سلیب ٹی او یو ٹیرف، صنعت کو ریلیف دینے کی کوشش

اسلام آباد میں وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے جمعرات کو مجوزہ ملٹی سلیب ٹائم آف یوز صنعتی ٹیرف پر اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا، جس میں ملک بھر کے بڑے صنعتی اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان سمیت بڑے صنعتی صارفین اور میڈیا شریک ہوئے۔ یہ اقدام وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی ہدایات پر شروع کیے گئے وسیع مشاورتی عمل کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق مجوزہ ٹیرف صنعتی صارفین کے لیے اختیاری بنیادوں پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں زیادہ فکسڈ چارجز شامل کیے گئے ہیں تاکہ کیپیسٹی لاگت کی مکمل وصولی ممکن بنائی جا سکے، جبکہ تین مختلف ٹائم آف یوز سلیبز کے تحت نسبتاً کم بجلی نرخ رکھے گئے ہیں۔
توانائی کے مشیر سید فیضان علی اور دیگر ماہرین نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل صنعتی صارفین کو آف پیک اوقات اور دن کے وقت شمسی پیداوار کے دوران زیادہ بجلی استعمال کی ترغیب دے گا۔ اس اقدام کا مقصد طلب کے بہتر انتظام کے ذریعے بجلی کے نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستان کے پاور سیکٹر کو گزشتہ کئی برسوں سے زائد پیداواری صلاحیت اور کم طلب کے مسائل کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 45,000 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم حقیقی استعمال اس سے کم رہتا ہے، جس سے نظام پر مالی دباؤ بڑھتا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق کیپیسٹی ادائیگیاں سالانہ 2 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، جو گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔ 2025 کے آغاز تک گردشی قرضہ 2.6 کھرب روپے سے اوپر جا چکا تھا، جو بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
مجوزہ ٹیرف کے تحت شامل ہونے والے صنعتی صارفین کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی ہوگی۔ حکام کے مطابق اس سے درست پیمائش ممکن ہوگی اور وقت کے مطابق نرخوں کے نفاذ کو مؤثر بنایا جا سکے گا، جو عالمی سطح پر استعمال ہونے والا ماڈل ہے۔
اجلاس کے دوران صنعتی نمائندگان نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ ان میں منظور شدہ لوڈ، فکسڈ چارجز کی سطح، اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار پر تحفظات شامل تھے۔ شرکاء نے زور دیا کہ ٹیرف ڈھانچہ عملی اور صنعت دوست ہونا چاہیے۔
پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل شعبے کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے، جیسا کہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں۔ صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ مسابقت برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی قیمتوں کا مستحکم اور قابل پیش گوئی ہونا ضروری ہے۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے حکام نے کہا کہ یہ ماڈل عالمی اصولوں کے مطابق ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ کو فروغ دے گا۔ ان کے مطابق آف پیک اوقات میں بجلی کے زیادہ استعمال سے فی یونٹ لاگت کم ہو سکتی ہے اور نظام پر دباؤ کم ہوگا۔
عالمی بینک کی 2024 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صنعتی بجلی نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جس سے سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ حکومت نے ماضی میں عارضی ریلیف پیکجز بھی متعارف کرائے، تاہم پائیدار حل تاحال زیر غور ہے۔
اجلاس میں شریک صنعتی تنظیموں نے حکومت کے مشاورتی عمل کو سراہا اور کہا کہ ابتدائی مرحلے پر شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے ٹیرف کو حتمی شکل دینے کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
وزارتِ توانائی نے کہا کہ تمام تجاویز کو حتمی ٹیرف ڈیزائن میں شامل کیا جائے گا اور مزید اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق مقصد ایک متوازن اور قابل عمل نظام تشکیل دینا ہے جو صنعت اور بجلی کے شعبے دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ماڈل کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ بجلی کے استعمال میں اضافہ، اضافی صلاحیت کے بہتر استعمال اور مالی دباؤ میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت کی جاری اصلاحات کے تناظر میں یہ اقدام پاور سیکٹر کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس کی قیادت وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کر رہی ہے۔
UrduLead UrduLead