ایف بی آر نے ٹیکس ریفنڈز تیز کرنے اور کاروباری سہولت بڑھانے کا وعدہ کیا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے جمعرات کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل اور ٹیکس معاملات میں سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان نے کراچی کی کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ان مسائل میں ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، سپر ٹیکس اقساط سے متعلق پیچیدگیاں اور دیگر انتظامی رکاوٹیں شامل تھیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے متعلقہ حکام کو فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے لارج ٹیکس پیئر آفس کراچی اور کسٹمز حکام کو ان مسائل کے حل میں تیزی لانے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنا ترجیح ہے۔
پاکستان میں ٹیکس ریفنڈز کی تاخیر ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، جس سے برآمدی صنعتوں کی لیکویڈیٹی متاثر ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر سے برآمد کنندگان کی ورکنگ کیپیٹل لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہ راست اثر مسابقت پر پڑتا ہے۔
ایف بی آر حکام نے اجلاس میں بتایا کہ ادارہ ٹیکس نظام کے نفاذ اور انتظامی امور کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ پالیسی سازی کا اختیار وزارت خزانہ کے پاس ہوتا ہے۔ چیئرمین نے یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز شکایات کا مکمل جائزہ لے کر بروقت حل فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے ان لینڈ ریونیو سروس اور کسٹمز حکام کو ہدایت دی کہ کراچی میں مسائل کا جامع جائزہ لیا جائے اور کاروباری برادری کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف اور مؤثر ٹیکس نظام کاروباری اعتماد کے لیے ضروری ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ تمام جائز ٹیکس ریفنڈز کو قواعد و ضوابط کے مطابق جلد از جلد ادا کیا جائے گا، جس سے کاروباری اداروں کی نقدی صورتحال بہتر ہوگی۔ پاکستان کی معیشت میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے یہ اقدام اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، جو تقریباً 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہتا ہے۔ حکومت اس تناسب کو بڑھانے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور نظام کو ڈیجیٹل بنانے پر کام کر رہی ہے۔
چیئرمین نے واضح کیا کہ ایف بی آر کاروباری سہولت کے لیے پرعزم ہے، تاہم تمام واجب الادا ٹیکسز کی وصولی قانون کے مطابق یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو بھی دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کاروباری افراد کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کریں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی مراعات طلب کرنے سے گریز کریں۔ یہ اقدام کاروباری ماحول کو شفاف بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
کاروباری برادری کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ ایف بی آر میں کسی بھی بدعنوانی کی نشاندہی مستند شواہد کے ساتھ کریں تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ چیئرمین نے یقین دلایا کہ بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق ٹیکس نظام میں بہتری اور ریفنڈز کے بروقت اجرا سے صنعتی اور برآمدی شعبے کو تقویت مل سکتی ہے۔ حالیہ اقدامات حکومت کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت ٹیکس اصلاحات کے ذریعے محصولات میں اضافہ اور کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا رہا ہے، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
UrduLead UrduLead