ہفتہ , مئی 16 2026

مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 23 پیسے کمی

وفاقی حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی اور پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول پر لیوی کم اور ڈیزل پر بڑھا دی ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے

وفاقی حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 23 پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے، جبکہ اوگرا نے نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے اطلاق کے ساتھ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 311 روپے 73 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس سے قبل قیمت 318 روپے 96 پیسے فی لیٹر تھی۔ قیمت میں کمی کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ توانائی کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ جائزے کے بعد سامنے آیا ہے۔ حکومتی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عام طور پر ہر پندرہ دن بعد تبدیل کی جاتی ہیں۔

اوگرا اس حوالے سے عالمی مارکیٹ اور درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ بھی فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان میں توانائی کی قیمتیں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔

حکومت نے صرف مٹی کے تیل کی قیمت میں ہی کمی نہیں کی بلکہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح میں بھی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق پیٹرول پر لیوی میں نمایاں کمی کی گئی ہے جبکہ ڈیزل پر لیوی بڑھا دی گئی ہے۔ پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 9 روپے 24 پیسے فی لیٹر کم کر دی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد پیٹرول پر لیوی 117 روپے 41 پیسے سے کم ہو کر 108 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔

یہ تبدیلی حکومتی ریونیو اور صارفین کے بوجھ کے درمیان توازن کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم لیوی وفاقی آمدن کا اہم ذریعہ ہے۔ اس لیوی کے ذریعے حکومت بجٹ خسارے کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پیٹرولیم لیوی میں متعدد بار اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2024 اور 2025 میں بھی لیوی ایڈجسٹمنٹ کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

اسی طرح ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 9 روپے 40 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل پر لیوی 42 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 52 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ڈیزل عام طور پر ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی کا اثر مہنگائی پر زیادہ پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی اس کا براہ راست اثر ہوتا ہے۔

حکومتی پالیسی کے مطابق مختلف مصنوعات پر لیوی میں ردوبدل ریونیو اور مارکیٹ استحکام کے لیے کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ڈیزل کی قیمتیں اکثر درآمدی اخراجات اور عالمی تیل مارکیٹ سے جڑی ہوتی ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں حالیہ مہینوں میں غیر مستحکم رہی ہیں۔ اوپیک پلس کی پیداوار پالیسی بھی عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں پر فوری عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔ اوگرا ہر پندرہ روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اس جائزے میں عالمی مارکیٹ، ایکسچینج ریٹ اور مقامی ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں معیشت کے لیے حساس ترین اشاریہ تصور کی جاتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں روپے کی قدر میں کمی نے بھی توانائی کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔ درآمدی بل میں اضافہ حکومت کے لیے مالی دباؤ کا باعث رہا ہے۔ اسی وجہ سے لیوی اور ٹیکس پالیسی میں بار بار تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل سے قلیل مدتی ریلیف یا بوجھ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم طویل مدتی اثرات عالمی تیل قیمتوں اور روپے کی قدر سے جڑے رہتے ہیں۔ پاکستان کی توانائی پالیسی مسلسل اصلاحات کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔

حکومت سبسڈی اور ریونیو کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عوامی سطح پر قیمتوں میں کمی کو ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ڈیزل پر اضافے کے باعث مجموعی مہنگائی پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر اس تبدیلی سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔

مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی محدود صارفین کے لیے ریلیف فراہم کرے گی۔ دیہی علاقوں میں مٹی کا تیل اب بھی روشنی اور ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ حکومت توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف بھی پیش رفت کر رہی ہے۔ سولر انرجی اور گیس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھائی جا رہی ہے۔

پاکستان کی توانائی پالیسی میں درآمدی تیل پر انحصار کم کرنا اہم ہدف ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی سفارشات بھی توانائی اصلاحات پر زور دیتی ہیں۔ آئندہ مہینوں میں پیٹرولیم قیمتوں کا رجحان عالمی مارکیٹ پر منحصر رہے گا۔ حکومت کا توانائی شعبے میں یہ تازہ اقدام آئندہ مالی پالیسیوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ہفتہ وار مہنگائی میں 0.47 فیصد اضافہ

پیٹرول اور آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے