–مبینہ منشیات فروش “پنکی ڈان” کیس میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی تحقیقات نے کئی اہم اور حساس پہلو بے نقاب
—فون سے شوبز، سیاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات کے نام اور نمبرز بھی سامنے
—-میرا، ریمشا خان، صادق افتخار، منیب بھٹی اور صنم آغا کے نام شامل، موبائل فون میں 30 جی بی سے زائد ڈیٹا، 37 ہزار فائلیں اور تقریباً 2700 کانٹیکٹس موجود

مبینہ منشیات فروش “پنکی ڈان” کیس میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی تحقیقات نے کئی اہم اور حساس پہلو بے نقاب کیے ہیں، جبکہ اس معاملے کو خالصتاً کرمنل انویسٹی گیشن قرار دیا جا رہا ہے۔
منصور علی خان نے اپنے یوٹیوب پروگرام میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت نے تقریباً چھ ماہ قبل بڑھتی ہوئی منشیات اسمگلنگ اور شہری علاقوں میں پھیلتے نیٹ ورک پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آئی بی کو خصوصی کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، آئی بی نے واضح شرط رکھی کہ تحقیقات کے دوران کسی قسم کی سیاسی یا انتظامی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور جس کسی کا نام سامنے آئے گا، اس کے خلاف مکمل کارروائی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق، اس مقصد کے لیے آئی بی نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جس نے جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ نگرانی کے آلات کے ذریعے تحقیقات شروع کیں۔ ابتدائی سراغ دو مبینہ منشیات فروشوں سے ملا جو چرس فروخت کرتے تھے۔ ان کے قبضے سے ایک سنہری رنگ کی ڈبیہ برآمد ہوئی جس پر “Queen Madam Pinky Don” درج تھا، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ “پنکی” نامی خاتون لاہور سے نیٹ ورک چلا رہی تھی جبکہ اس کے خاندان کا تعلق کراچی سے بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ نیٹ ورک گزشتہ 12 سے 13 برس سے سرگرم تھا۔ کراچی کے پوش علاقوں کلفٹن اور ڈی ایچ اے کی نجی پارٹیوں اور نائٹ لائف میں انڈر کور اہلکار بھیجے گئے، جن کی مدد سے مبینہ ملزمہ تک رسائی حاصل کی گئی۔
منصور علی خان کے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی کے دوران ڈیڑھ کلوگرام سے زائد کوکین برآمد ہوئی۔ ذرائع کے مطابق، کوکین کو 15 سے 20 گرام کے “انڈوں” کی شکل میں تیار کیا جاتا تھا۔ خام کوکین مبینہ طور پر افریقی ممالک، خصوصاً نائجیریا اور مصر سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان لاتے تھے، جبکہ بعد ازاں اسے مختلف کیمیکلز، جن میں ایفیڈرین، کیٹامین اور ایسٹون شامل ہیں، ملا کر مزید طاقتور بنایا جاتا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ خواتین پر مشتمل نیٹ ورک کو زیادہ استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ ان کی چیکنگ نسبتاً کم ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، بعض غیر ملکی افراد نے پاکستان میں مقامی شادیاں بھی کر رکھی تھیں تاکہ نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی حاصل کی جا سکے۔
تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر ایک موبائل فون برآمد ہوا جس میں 30 جی بی سے زائد ڈیٹا، 37 ہزار فائلیں اور تقریباً 2700 کانٹیکٹس موجود تھے۔ پروگرام میں دعویٰ کیا گیا کہ فون سے شوبز، سیاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات کے نام اور نمبرز بھی سامنے آئے۔ ان میں اداکارہ میرا، ریمشا خان، صادق افتخار، منیب بھٹی اور صنم آغا کے نام شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ان شخصیات کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق، فون سے 500 سے زائد تصاویر اور تقریباً 100 ویڈیوز بھی ملی ہیں۔ ایک مبینہ ویڈیو میں ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تاہم ان ویڈیوز اور مواد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
منصور علی خان کے مطابق، بعض حلقوں کی جانب سے اس کیس کو بنی گالہ اور سیاسی معاملات سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ذرائع نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر ایک کرمنل انویسٹی گیشن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ چونکہ آپریشن سندھ حکومت کی ہدایت پر شروع ہوا، اس لیے اسے کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اب تک متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کیس پر مکمل اور باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ سوشل میڈیا پر زیر گردش متعدد دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی باقی ہے۔
UrduLead UrduLead