
موسمی اثرات کے باعث گندم کی پیداوار میں 12 سے 15 فیصد کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ ملک میں مجموعی طور پر 45 لاکھ ٹن گندم کی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے گندم درآمد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گندم کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر مشاورت جاری ہے اور پنجاب حکومت کا مؤقف بھی طلب کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ درآمد سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
محکمہ خوراک کے حکام کے مطابق ملک میں ضرورت کے مطابق گندم کے ذخائر موجود نہیں ہیں جبکہ پاسکو، سندھ اور خیبر پختونخوا کے پاس مجموعی طور پر 22 لاکھ ٹن گندم دستیاب ہے۔ دوسری جانب حالیہ موسمی تبدیلیوں، بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے نے فصل کی پیداوار کو متاثر کیا ہے جس کے باعث آئندہ مہینوں میں آٹے کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت درآمدی فیصلے نہ کیے گئے تو مارکیٹ میں سپلائی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ حکومت کو قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
UrduLead UrduLead