
پاکستان میں شدید گرمی کے دوران ماہرینِ غذائیت نے شہریوں کو مقامی اور موسمی سبزیاں زیادہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ جسم کو پانی، وٹامنز اور قدرتی ٹھنڈک فراہم کی جا سکے۔
ملک بھر میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی صحت کے مسائل میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمِ گرما میں جسم کو پانی کی کمی، تھکاوٹ، ہاضمے کی خرابی اور جلدی امراض سے بچانے کے لیے تازہ سبزیوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی بازاروں میں دستیاب موسمی سبزیاں نہ صرف سستی ہوتی ہیں بلکہ غذائیت سے بھی بھرپور ہوتی ہیں۔
ماہرین نے بھنڈی کو گرمیوں کی اہم سبزی قرار دیا ہے۔ اس میں فائبر، وٹامن اے اور وٹامن سی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو ہاضمہ بہتر بنانے اور بلڈ شوگر متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ بھنڈی پاکستانی گھروں میں مختلف انداز سے پکائی جاتی ہے اور گرمیوں میں اسے پسندیدہ غذا سمجھا جاتا ہے۔
لوکی کو بھی موسمِ گرما کی مفید ترین سبزیوں میں شامل کیا گیا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق اس میں 90 فیصد سے زائد پانی موجود ہوتا ہے جو جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے۔ لوکی وزن کم کرنے، بلڈ پریشر قابو میں رکھنے اور گردوں کی صحت بہتر بنانے میں مددگار سمجھی جاتی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اس کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے۔
توری یا گھی توری بھی گرمیوں میں عام دستیاب سبزی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں فائبر کی زیادہ مقدار قبض سے نجات دیتی ہے جبکہ یہ جسم سے فاضل مادے خارج کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح کریلا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ خون میں شوگر کی سطح کم کرنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔
بیگن، ٹماٹر اور کھیرا بھی گرمیوں کی غذا کا اہم حصہ قرار دیے گئے ہیں۔ ٹماٹر میں موجود لائکوپین اور وٹامن سی جلد کو دھوپ کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ کھیرا جسم کو قدرتی ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔ ماہرین نے روزانہ سلاد کے استعمال پر زور دیا ہے تاکہ پانی کی کمی سے بچا جا سکے۔
غذائی ماہر ڈاکٹر سارہ خالد کے مطابق پانی والی سبزیاں جسم کے اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوکی، کھیرا اور بھنڈی جیسی سبزیاں روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے لو لگنے اور ڈی ہائیڈریشن کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سبزیاں تازہ خریدی جائیں اور انہیں زیادہ دیر تک نہ پکایا جائے تاکہ غذائیت برقرار رہے۔ ان کے مطابق سلاد، رائتہ اور ہلکی پکی ہوئی سبزیوں کا استعمال گرمیوں میں زیادہ فائدہ مند رہتا ہے جبکہ زیادہ مرچ مصالحے اور تلی ہوئی غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
زرعی ماہرین کے مطابق پاکستان میں موسمی سبزیوں کی پیداوار دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں گرمیوں کی سبزیوں کی کاشت مقامی منڈیوں کی طلب پوری کرتی ہے جبکہ شہری علاقوں میں بھی ان کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گرمیوں میں مقامی سبزیوں کا استعمال صحت کے ساتھ گھریلو اخراجات میں بھی کمی لانے میں مدد دیتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead