
ماہرین صحت نے شدید گرمی میں آلودہ پانی اور غیر معیاری خوراک کو گیسٹرو کے بڑھتے کیسز کی بڑی وجہ قرار دیا ہے، جبکہ شہریوں کو ابلا ہوا پانی پینے اور بازار کی کھلی اشیا سے پرہیز کی ہدایت کی گئی ہے۔
راولپنڈی، لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی گیسٹرو اور پیٹ کی بیماریوں کے مریضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں روزانہ سینکڑوں مریض الٹی، اسہال اور پیٹ درد کی شکایات کے ساتھ پہنچ رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق زیادہ تر مریض بچے اور بزرگ ہیں، جو گرمی اور پانی کی کمی سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں خوراک جلد خراب ہوجاتی ہے، جبکہ غیر معیاری برف، کھلے مشروبات اور سڑک کنارے فروخت ہونے والی اشیا بیماریوں کو بڑھا رہی ہیں۔ ماہر امراض معدہ ڈاکٹر احمد نواز کے مطابق شہریوں کو صرف ابلا یا فلٹر شدہ پانی استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ دھونے کی عادت اور تازہ کھانا گیسٹرو سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال گرمیوں کے مہینوں میں گیسٹرو کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں آلودہ پانی اب بھی مختلف بیماریوں کی بڑی وجہ ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں صاف پانی کی محدود دستیابی صورتحال کو مزید سنگین بناتی ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بچے بازار کے رنگین مشروبات، کچی برف اور باسی کھانوں سے دور رکھے جائیں۔ گھروں میں پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھنے اور کھانا فریج میں محفوظ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق گیسٹرو کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر او آر ایس کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
ادھر محکمہ صحت نے مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈز کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ گیسٹرو کے کیسز مزید بڑھ سکتے ہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead