
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ درخواست پر سماعت کے دوران انکشاف کیا گیا کہ بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 64 سے 65 ارب روپے تک ریلیف ملنے کا امکان ہے، جس سے فی یونٹ بجلی قیمت میں 1 روپے 93 پیسے کمی ہوسکتی ہے۔
نیپرا چیئرمین وسیم مختار کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں پاور ڈویژن اور ڈسکوز حکام نے بتایا کہ جنوری تا مارچ 2026 کے دوران کیپسٹی چارجز میں 36 ارب 83 کروڑ 70 لاکھ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی عرصے میں سسٹم چارجز اور مارکیٹ آپریشن فیس میں بھی 11 ارب 24 کروڑ روپے کی کمی سامنے آئی، جس نے مجموعی ریلیف میں اہم کردار ادا کیا۔
سماعت کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مختلف بجلی تقسیم کار کمپنیوں، جنہیں ایکس ڈبلیو ڈسکوز کہا جاتا ہے، نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت الگ الگ مالیاتی درخواستیں جمع کرائیں۔ فیسکو، گیپکو، حیسکو، سیپکو، آئیسکو، لیسکو، میپکو، پیسکو، ٹیسکو، کیسکو اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کی درخواستوں کو مجموعی طور پر ایک قومی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ فریم ورک میں شامل کیا گیا۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے حکام نے بتایا کہ رواں سال بجلی خریداری لاگت میں کمی، بہتر ڈیمانڈ مینجمنٹ اور بعض پاور پلانٹس کی کم پیداواری لاگت کے باعث صارفین کو نمایاں مالی فائدہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا مقصد اصل بجلی لاگت اور صارفین سے وصول کیے جانے والے نرخوں میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
نیپرا حکام نے واضح کیا کہ اتھارٹی تمام مالیاتی اور تکنیکی اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی بھی صارف کی بجلی سبسڈی ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
حکام نے مزید بتایا کہ سبسڈی نظام کو زیادہ مؤثر اور ہدفی بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں صارفین کا جامع ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔ اس وقت ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ صارفین مختلف اقسام کی بجلی سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق پاکستان کا پاور سیکٹر گزشتہ کئی برسوں سے گردشی قرضے، مہنگی بجلی پیداوار اور لائن لاسز جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ تاہم عالمی ایندھن قیمتوں میں کمی اور حکومتی اصلاحاتی اقدامات کے باعث حالیہ مہینوں میں بجلی لاگت میں نسبتی استحکام دیکھا گیا ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاور سیکٹر اصلاحات، سبسڈی کے بہتر ہدفی نظام اور مالیاتی نظم و ضبط پر بھی کام کر رہی ہے، جس کے اثرات آئندہ سہ ماہیوں میں مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔
UrduLead UrduLead