اتوار , مارچ 1 2026

پیٹرول 8 روپے مہنگا، نئی قیمت 266.17 روپے

حکومت نے اوگرا کی سفارش پر یکم مارچ سے پیٹرول 8 اور ڈیزل 5.16 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا، اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگیا۔

حکومت پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا ہے، جس کا اطلاق یکم مارچ کی رات 12 بجے سے ہوگا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ Oil and Gas Regulatory Authority کی سفارش پر کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 266 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے، جو پہلے 258 روپے 17 پیسے تھی۔ نئی قیمت آئندہ 15 روز کے لیے نافذ العمل رہے گی۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 5 روپے 16 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 280 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے قبل 275 روپے 70 پیسے تھی۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور روپے کی قدر کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ وزارت خزانہ ہر پندرہ روز بعد قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ اور زرعی لاگت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان میں مال برداری کا بڑا حصہ ڈیزل پر انحصار کرتا ہے، جس سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس حکومت کی آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔ موجودہ مالی سال میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں سینکڑوں ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ مالیاتی خسارہ کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مہنگائی کی شرح میں اتار چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔ توانائی لاگت میں اضافہ مجموعی افراط زر پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین شفاف طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی صوابدید شامل نہیں ہوتی۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو آئندہ جائزے میں قیمتوں میں کمی کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم موجودہ اضافے سے صارفین اور ٹرانسپورٹ شعبہ فوری طور پر متاثر ہوں گے، جبکہ آئندہ پندرہ روز تک نئی قیمتیں برقرار رہیں گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایف بی آر کو 8 ماہ میں 450 ارب کا شارٹ فال

فیڈرل بورڈ آف ریونیو جولائی تا فروری 8.1 کھرب روپے جمع کر سکا، جو نظرثانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے