اتوار , مارچ 1 2026

غیر تسلیم شدہ ڈگریوں کی رجسٹریشن روکنے کا اعلان

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 31 دسمبر 2023 کے بعد غیر تسلیم شدہ اداروں سے حاصل کردہ پوسٹ گریجویٹ ڈگریوں کی رجسٹریشن روکنے کا اعلان کردیا، جس سے سینکڑوں ڈاکٹروں کا مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

Pakistan Medical and Dental Council نے جنرل جامعات سے حاصل کردہ ایم فل، پی ایچ ڈی، ایم ایس اور ایم ڈی ڈگریوں کی رجسٹریشن پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ صرف ان اداروں کی اعلیٰ تعلیمی اسناد رجسٹر کی جائیں گی جو پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت تسلیم شدہ ہوں۔

کونسل کے مطابق صرف ان امیدواروں کی ڈگریاں رجسٹر ہوں گی جن کے فائنل امتحانات 31 دسمبر 2023 تک منعقد ہوچکے ہوں۔ رجسٹریشن کے لیے ڈگری پر درج امتحان کی تاریخ کو حتمی بنیاد بنایا جائے گا۔ یکم جنوری 2024 کے بعد غیر تسلیم شدہ ٹریننگ سائٹس سے حاصل کردہ ایم فل، پی ایچ ڈی، ایم ایس اور ایم ڈی ڈگریاں رجسٹر نہیں کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 240 سے زائد سرکاری و نجی جامعات کام کر رہی ہیں، جن میں متعدد بنیادی اور طبی سائنسز میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرتی ہیں۔ تاہم پیشہ ورانہ رجسٹریشن کے لیے متعلقہ ریگولیٹری ادارے کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔

پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایم ایس، ایم ڈی، ایم ڈی ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی، ایف سی پی ایس، ایم سی پی ایس اور مختلف ڈپلومہ پروگرامز کی ڈگریاں جامعات اور College of Physicians and Surgeons Pakistan جاری کرتے ہیں۔ کونسل نے ان کیسز کا جائزہ لیا جن میں ایسی ٹریننگ سائٹس شامل تھیں جو سیکشن 25 کے تحت تسلیم شدہ نہیں تھیں۔

7 جنوری 2026 کو پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر تسلیم شدہ اداروں سے حاصل کردہ اور 31 دسمبر 2023 کی ایمنسٹی ڈیڈ لائن میں شامل نہ ہونے والی ڈگریاں رجسٹر نہیں ہوں گی۔ سیکریٹریٹ کو ہدایت دی گئی کہ زیر التوا درخواستوں کو قانون اور کونسل فیصلوں کے مطابق نمٹایا جائے۔

پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے نفاذ کے بعد سے رجسٹریشن کے قواعد سخت کیے گئے ہیں۔ کونسل نے 4 جون 2023 کے فیصلے کی توثیق کی جس میں کہا گیا تھا کہ قانون کا اطلاق ماضی پر نہیں ہوگا۔ 16 جنوری 2023 سے قبل داخلہ لینے یا کوالیفائی کرنے والے امیدوار سابقہ قانونی فریم ورک کے تحت سمجھے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد داخل ہونے والوں کے لیے ادارے اور ٹریننگ سائٹ کی باقاعدہ منظوری لازمی ہوگی۔

19 ستمبر 2023 کے فیصلے میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری اور ٹریننگ ادارے کی منظوری کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ سابقہ پی ایم سی ایکٹ 2020 کے تحت جمع کرائی گئی درخواستیں موجودہ قانون کے تحت قابل عمل نہیں رہیں۔ نئی درخواستیں پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے مطابق جمع کروانا ہوں گی۔

کونسل نے محدود مدت کی ایک بار ایمنسٹی بھی دی تھی۔ 13 جون اور 6 اگست 2024 کے فیصلوں کے مطابق یہ رعایت صرف ان امیدواروں کے لیے تھی جن کے فائنل امتحانات 31 دسمبر 2023 تک منعقد ہوئے۔ اس شرط کا مقصد عبوری دور میں متاثرہ امیدواروں کو ریلیف فراہم کرنا تھا۔

مزید برآں، کونسل نے ایچ ای سی سے تسلیم شدہ جامعات سے حاصل کردہ بنیادی سائنسز کی پوسٹ گریجویٹ ڈگریوں کی رجسٹریشن کی اجازت دی، بشرطیکہ داخلہ 27 ستمبر 2022 تک ہوا ہو۔ اس فیصلے کو طبی تعلیم کے معیار کو یکساں بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ تمام اسپیشلسٹس کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اقدامات کا مقصد میرٹ کا تحفظ اور اسپیشلسٹ ٹریننگ کے معیار کو برقرار رکھنا ہے۔ طبی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری وضاحت سے نظام مضبوط ہوگا، تاہم متاثرہ ڈاکٹروں کے لیے عبوری حل بھی ضروری ہوگا۔

پاکستان میں صحت کے شعبے میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ڈاکٹر اور آبادی کا تناسب عالمی معیار سے کم ہے۔ ایسے میں رجسٹریشن سے متعلق سخت فیصلے شعبے کی افرادی قوت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

آنے والے مہینوں میں امکان ہے کہ جامعات اور متعلقہ ادارے پی ایم ڈی سی سے مزید وضاحت طلب کریں گے۔ طبی تعلیم کے نظام میں ہم آہنگی اور شفافیت کا انحصار اب Pakistan Medical and Dental Council کے مؤثر نفاذ اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون پر ہوگا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان کا سری لنکا سے آج اہم ٹاکرا

پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے سری لنکا کے خلاف نہ صرف فتح …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے