پاکستان نے سری لنکا کو 5 رنز سے ہرایا

پاکستان نے پالی کیلے میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد سری لنکا کو پانچ رنز سے شکست دے کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں اہم کامیابی حاصل کرلی۔
پاکستان نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں سری لنکا کو پانچ رنز سے شکست دے دی۔ پالی کیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 212 رنز بنائے جبکہ سری لنکا 207 رنز تک محدود رہی۔
سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے صاحبزادہ فرحان نے 60 گیندوں پر شاندار 100 رنز اسکور کیے۔ انہوں نے نو چوکے اور پانچ چھکے لگائے۔ فخر زمان نے بھی جارحانہ انداز اپنایا اور 42 گیندوں پر 84 رنز بنائے جن میں نو چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ دونوں بلے بازوں کی شراکت نے ٹیم کو بڑا مجموعہ فراہم کیا۔
آئی سی سی کے اعداد و شمار کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 200 سے زائد ہدف کا کامیاب تعاقب کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ 2007 سے اب تک ایسے اہداف تقریباً 30 فیصد مواقع پر حاصل کیے گئے ہیں۔ پالی کیلے میں اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں پہلی اننگز کا اوسط اسکور تقریباً 165 رہا ہے، جس سے پاکستان کا 212 رنز کا مجموعہ خاصا مضبوط نظر آ رہا تھا۔

سری لنکا کی جانب سے کپتان داسن شناکا نے آخری اوورز میں بھرپور مزاحمت کی۔ انہوں نے 31 گیندوں پر ناقابل شکست 76 رنز بنائے اور آٹھ چھکے لگائے۔ آخری اوور میں سری لنکا کو 28 رنز درکار تھے۔ شناکا نے شاہین شاہ آفریدی کو لگاتار تین چھکے جڑ کر میچ میں سنسنی پیدا کردی۔
تاہم شاہین آفریدی نے دباؤ میں شاندار کم بیک کیا۔ انہوں نے دو درست یارکرز پھینک کر میچ پاکستان کے حق میں ختم کیا۔ آخری گیند پر شناکا نے وائیڈ کی امید میں شاٹ نہ کھیلا مگر گیند کریز کے اندر رہی اور پاکستان نے پانچ رنز سے کامیابی سمیٹ لی۔
اس سے قبل پون رتھنائیکے نے 37 گیندوں پر 58 رنز بنا کر اننگز کو سہارا دیا۔ لیکن 18ویں اوور میں ان کی وکٹ گرنے کے بعد درکار رن ریٹ بڑھتا گیا۔ پاکستان کے لیگ اسپنر ابرار احمد نے چار اوورز میں 23 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا اکانومی ریٹ 5.75 رہا جو میچ کا بہترین بولنگ اسپیل ثابت ہوا۔
آئی سی سی کے ریکارڈ کے مطابق شاہین آفریدی گزشتہ تین برسوں میں ڈیتھ اوورز کے مؤثر ترین باؤلرز میں شمار ہوتے ہیں۔ 2023 کے بعد سے انہوں نے 16 سے 20 اوورز کے درمیان 20 سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس میچ میں بھی ان کا آخری اوور فیصلہ کن ثابت ہوا۔
UrduLead UrduLead