
پاک افغان جھڑپوں کے دوران سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں اور تمسخر آمیز مواد کی بھرمار نے حقائق کو مسخ اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کے آغاز کے ساتھ ہی روایتی اور سوشل میڈیا پر معلومات کی یلغار شروع ہو گئی، جس میں درست خبروں کے ساتھ گمراہ کن دعوے اور طنزیہ میمز بھی تیزی سے پھیلتے رہے۔ جمعرات کی رات شروع ہونے والی کشیدگی ہفتے کی صبح تک جاری رہی، اور ابتدائی گھنٹوں میں ہی درجنوں غیر مصدقہ دعوے گردش کرنے لگے۔
فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم آئی ویریفائی پاکستان کے مطابق پہلے 12 گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک درجن سے زائد مشکوک دعوے سامنے آئے۔ ان میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے طالبان کمانڈروں کے نام، پاکستانی طیاروں کے گرنے کی ویڈیوز، کاکول ملٹری اکیڈمی پر حملے کے بعد افراتفری کے مناظر، اور دونوں جانب کے فوجیوں کی گرفتاری سے متعلق مواد شامل تھا۔ مقامی صحافیوں اور سوشل میڈیا مبصرین کے علاوہ بھارت اور افغانستان سے منسلک پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے بھی اس بیانیے کو ہوا دی۔
اسی دوران برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کے ایک بلیٹن کا کلپ بھی وائرل ہوا، جس میں اینکر نے دعویٰ کیا کہ افغان فوج نے پاکستان کے خلاف فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ چونکہ افغانستان کے پاس مؤثر فضائیہ موجود نہیں، اس بیان پر فوری ردعمل آیا اور کلپ حذف کر دیا گیا، مگر اس سے پہلے یہ میمز کی شکل اختیار کر چکا تھا۔
پاکستان میں بحران کے لمحات میں طنز و مزاح کا سہارا لینا نئی بات نہیں، چاہے معاملہ کرکٹ کا ہو یا جنگ کا۔ تاہم ناقدین کے مطابق جب ایسا مزاح ان شہریوں کی قیمت پر ہو جو پہلے ہی عدم تحفظ کا شکار ہوں تو مسئلہ سنگین ہو جاتا ہے۔ جمعہ کی رات وزیراعظم کے میڈیا کوآرڈینیٹر بدر شہباز نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں نوجوان جنگی صورتحال پر طنزیہ جملے ادا کرتے دکھائی دیے۔ چند منٹ بعد وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ یا ان کی ٹیم نے بھی اسے محب وطن جذبے کی مثال قرار دے کر دوبارہ شیئر کیا۔
ویڈیو کے ایک جملے میں افغانوں کو تندور چلانے تک محدود کر کے پیش کیا گیا، جسے ناقدین نے توہین آمیز اور نسلی تعصب کو فروغ دینے والا قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق دسمبر 2025 تک پاکستان میں 10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان مہاجرین مقیم ہیں۔ نومبر 2023 میں شروع ہونے والے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے کے بعد بھی بڑی تعداد میں افغان شہری ملک میں موجود ہیں، جن میں رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے اور پاکستان میں پیدا ہونے والے افراد شامل ہیں۔
پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آیا ہے، 1979 میں سوویت یلغار سے لے کر 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار تک مختلف ادوار میں لاکھوں افغان یہاں آ کر آباد ہوئے۔ ان میں سے کئی پاکستانی معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں ایسے بیانات نہ صرف غلط معلومات کے ساتھ مل کر نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
فیکٹ چیکرز کے مطابق غلط معلومات کی تین اقسام ہوتی ہیں: مس انفارمیشن، ڈس انفارمیشن اور میل انفارمیشن۔ آخری قسم وہ ہوتی ہے جس میں کسی جزوی سچائی کو سیاق و سباق سے ہٹا کر کسی گروہ یا ملک کے خلاف استعمال کیا جائے۔ آئی ویریفائی کی دو سالہ رپورٹ کے مطابق ایسے بیانیے تاریخی شکایات کو ابھارتے اور عدم اعتماد کو گہرا کرتے ہیں، جس کے اثرات زمینی سطح پر بھی محسوس ہوتے ہیں۔
حکومتی عہدیداروں کی پوسٹس کے نیچے متعدد صارفین نے ویڈیو کے مندرجات پر تنقید کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاست کے دفاع کی حمایت اور نفرت انگیز بیانیے کی مخالفت ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ان کے مطابق قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشیدہ حالات میں محتاط زبان استعمال کرے کیونکہ ایسے لمحات میں ہر لفظ کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی تصادم کے دوران غلط معلومات اور تمسخر آمیز مواد ایک ساتھ پھیلیں تو ان کے اثرات مزید تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ جنگ کے ماحول میں جذبات عروج پر ہوتے ہیں، اس لیے رہنماؤں کو حقائق پر توجہ رکھنی چاہیے اور مزاح کو عوام تک محدود رہنے دینا چاہیے۔
UrduLead UrduLead