
لاہور ہائی کورٹ نے نجی میڈیکل کالجز کو 18 لاکھ روپے سے زائد داخلہ فیس لینے سے روک دیا اور معاملہ 30 روز میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو نمٹانے کا حکم دیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے نجی میڈیکل کالجز کو طلبہ سے اضافی داخلہ فیس وصول کرنے سے روک دیا ہے اور فیس کے تنازع پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو 30 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس خالد اسحاق نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا جو رانا ندیم کی درخواست پر دیا گیا۔
عدالت نے متعلقہ نجی کالج کو درخواست گزار کی بیٹی سے داخلے کے لیے مقررہ حد سے زائد فیس لینے سے فوری طور پر روک دیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن کے تحت کوئی بھی نجی میڈیکل کالج سالانہ 18 لاکھ روپے سے زائد فیس وصول نہیں کر سکتا۔ درخواست گزار کے مطابق کالج نے 27 لاکھ روپے فیس کا مطالبہ کیا تھا جو نوٹیفکیشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے پاس داد رسی کے لیے باقاعدہ فورم موجود ہے اور وہ تمام دستاویزات کے ساتھ پی ایم ڈی سی سے رجوع کرے۔ حکم کے مطابق پی ایم ڈی سی درخواست موصول ہونے کے بعد 30 روز میں قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔
نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں کا معاملہ گزشتہ چند برسوں سے متنازع رہا ہے۔ 2018 میں سپریم کورٹ نے بھی نجی کالجز کی فیسوں کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق اہم فیصلہ دیا تھا جس کے بعد فیسوں کے تعین کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرایا گیا۔ بعد ازاں قانون سازی کے ذریعے پی ایم ڈی سی کو فیس اسٹرکچر کی نگرانی کا اختیار دیا گیا۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2022 کے تحت کونسل کو میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی منظوری، نصاب اور فیسوں کی حد مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 100 سے زائد نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کام کر رہے ہیں، جہاں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ نجی شعبے میں میڈیکل تعلیم کی لاگت زیادہ ہونے کے باعث متوسط طبقے کے طلبہ کو مالی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
گزشتہ برس پی ایم ڈی سی نے فیس کی بالائی حد 18 لاکھ روپے سالانہ مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا تاکہ طلبہ اور والدین کو غیر متوقع اضافی اخراجات سے تحفظ دیا جا سکے۔ تاہم متعدد کالجز پر اس حد سے تجاوز کرنے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ وزارت قومی صحت خدمات کے حکام بھی اس معاملے پر مختلف اوقات میں وضاحتیں دیتے رہے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیسوں کے تعین میں شفافیت اور یکسانیت ضروری ہے تاکہ پیشہ ورانہ تعلیم تک رسائی متاثر نہ ہو۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں تعلیم کے اخراجات میں مجموعی طور پر نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں پر بھی دباؤ پڑا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کا حالیہ حکم عارضی ریلیف فراہم کرتا ہے لیکن حتمی فیصلہ ریگولیٹر کو کرنا ہوگا۔ اگر پی ایم ڈی سی مقررہ مدت میں فیصلہ کرتی ہے تو یہ مستقبل میں فیسوں سے متعلق دیگر مقدمات کے لیے بھی نظیر بن سکتا ہے۔
نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں کا تنازع ایک بار پھر عدالتی نگرانی میں آ گیا ہے اور اب نظریں پی ایم ڈی سی کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں جو ملک میں میڈیکل تعلیم کے شعبے پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead