بدھ , ستمبر 2 2026

رات کے وقت لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری، 4 گھنٹے تک بجلی کی بندش

آر ایل این جی کی قلت برقرار

پاکستان کے مختلف حصوں میں رات کے وقت بجلی کی عارضی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پنجاب بالخصوص لاہور اور گردونواح میں لیسکو کے صارفین کو رات 9 بجے سے صبح 4 بجے کے دوران 2 سے 4 گھنٹے تک بجلی کی بندش کا سامنا ہے، جبکہ سولر توانائی کی بدولت دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق ہے۔

مجموعی شارٹ فال حالیہ دنوں میں 4 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ صورتحال ایک روز قبل وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی جانب سے قوم سے معذرت کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے قطر سے معاہدے کے تحت آر ایل این جی (ری گیسیفائیڈ ایل این جی) کی عدم دستیابی کو بندش کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔

پس منظر اور صورتحال

آر ایل این جی کی قلت کے باعث تقریباً 3600 سے 5000 میگاواٹ صلاحیت کے حامل گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس بند پڑے ہیں، جن کی ضرورت شام کے وقت طلب میں اضافے کے دوران سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ کارگو کی تاخیر کا تعلق خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں ایران-امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

حکام کے مطابق اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی دستیاب ہے، تاہم موجودہ قیمتیں اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے ناقابلِ عمل بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ منگلا سمیت پن بجلی کی پیداوار میں کمی نے بھی نظام پر دباؤ بڑھایا ہے۔

صورتحال سے نمٹنے کے لیے فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹس کو پیک آورز کے دوران دوبارہ فعال کیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے اسپاٹ ایل این جی کارگو کے لیے نیا ٹینڈر جاری کیا ہے، جس کی ترسیل 4 سے 8 ستمبر کے دوران متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ بندش عارضی نوعیت کی ہے اور تاخیر کا شکار کارگوز کی آمد کے بعد صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

سرکاری بیانات کے مطابق لوڈشیڈنگ صرف رات کے وقت اور شیڈول کے مطابق کی جا رہی ہے، تاہم کراچی، راولپنڈی اور لاہور کے بعض علاقوں میں سوشل میڈیا صارفین نے شیڈول سے ہٹ کر طویل یا غیراعلانیہ بندش کی شکایات کی ہیں۔

وزراء کی معذرت کو سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل ملا، جہاں کئی صارفین نے اعتراف کو سراہا مگر بندش کے تسلسل پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

ماہرین کی رائے

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آر ایل این جی کی محدود صلاحیت پر انحصار نظام کو بیرونی سپلائی جھٹکوں کے لیے حساس بناتا ہے، خصوصاً جب یہ سپلائی آبنائے ہرمز جیسے حساس راستوں سے وابستہ ہو۔

ماہرین کے مطابق طویل المدتی سپلائی معاہدوں کی مضبوطی، ایندھن کے متبادل ذرائع اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے بغیر مستقبل میں طلب کے عروج کے دوران ایسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

FBR اگست میں ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام

28 ارب روپے کا شارٹ فال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اگست 2026ء …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے