
ملازمت کا دباؤ، گھریلو ذمہ داریاں اور روزمرہ زندگی کی بھاگ دوڑ نے پاکستان میں ذہنی تھکن (mental fatigue) کو ایک عام مگر نظرانداز مسئلہ بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جسمانی تھکن کی طرح ذہنی تھکاوٹ بھی کارکردگی، تعلقات اور مجموعی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں اسے اکثر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
پس منظر اور مجموعی صورتحال
طبی جائزوں کے مطابق پاکستان میں بالغ آبادی کے ایک بڑے حصے کو ذہنی دباؤ، اضطراب یا متعلقہ مسائل کا سامنا ہے۔ ملازمت پیشہ افراد میں کام سے متعلق ذہنی تھکن کی شرح حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں طویل اوقاتِ کار، مالی دباؤ، ٹریفک اور شہری زندگی کا تناؤ، اور کام اور نجی زندگی کے درمیان دھندلی حدود شامل ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں کیے گئے ایک سروے میں شریک بالغ افراد میں ذہنی دباؤ اور اضطراب کی علامات نمایاں پائی گئیں۔ اس کے باوجود، دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تربیت یافتہ ذہنی صحت کے ماہرین کی تعداد آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہے، جس کی وجہ سے بروقت مدد حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
معاشرتی سطح پر ذہنی صحت کے موضوع پر بات کرنا اب بھی نسبتاً نیا رجحان ہے۔ گھریلو اور پیشہ ورانہ ماحول میں تھکن کو اکثر “کاہلی” یا “کمزور ارادے” سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے باعث متاثرہ افراد اپنی کیفیت کھل کر بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر نوجوان صارفین میں ذہنی تھکن اور “برن آؤٹ” جیسی اصطلاحات زیرِ بحث آنے لگی ہیں۔ متعدد صارفین نے ملازمت کے دباؤ، امتحانات اور مالی مشکلات کو اپنی تھکن کی بڑی وجہ قرار دیا۔ کئی لوگوں نے آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ خاندان اور معاشرہ اکثر ذہنی تھکن کو سنجیدہ مسئلہ تسلیم نہیں کرتا۔
دوسری جانب، ذہنی صحت سے متعلق آگاہی پھیلانے والے چند صفحات اور تنظیموں نے آرام، حدود مقرر کرنے اور ضرورت پڑنے پر مدد لینے کی اہمیت پر زور دیا، جسے صارفین کی بڑی تعداد نے سراہا۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ذہنی تھکن سے نمٹنے کے لیے چند بنیادی عادات مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:
- نیند کا معیار بہتر بنانا — مناسب اور بروقت نیند دماغ کو سکون بحال کرنے کا موقع دیتی ہے۔
- کام اور آرام کے درمیان حد بندی — مسلسل کام کے دوران مختصر وقفے ذہنی توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
- جسمانی سرگرمی — روزانہ چہل قدمی یا ہلکی ورزش ذہنی دباؤ کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
- سماجی رابطہ — خاندان اور دوستوں سے بات چیت تنہائی اور ذہنی بوجھ کو کم کر سکتی ہے۔
- اسکرین اور خبروں سے وقفہ — مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت بھی ذہنی تھکاوٹ کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اگر تھکن مستقل رہے، روزمرہ زندگی متاثر کرے یا خود بخود بہتر نہ ہو، تو کسی مستند معالج یا ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت کے موضوع کو کھلے دل سے قبول کرنا، آگاہی مہمات اور تربیت یافتہ عملے میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
UrduLead UrduLead