Related Articles

امریکہ کے ویسٹار انسٹی ٹیوٹ کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ عام غذائی چینی فروکٹوز، بیضہ دانی (اووری) کے کینسر کے پھیلاؤ میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر کیموتھراپی کے بعد۔
جریدے نیچر ایجنگ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، کیموتھراپی سے مکمل طور پر ختم نہ ہونے والے کینسر کے خلیات ارد گرد موجود ٹیومر خلیات کو سگنل بھیجتے ہیں، جس سے وہ زیادہ آسانی سے پھیل سکتے ہیں، اور محققین نے اس عمل میں فروکٹوز کو ایک کلیدی پیامبر مالیکیول کے طور پر شناخت کیا ہے۔
مطالعے کی شریک مصنف اور پہلی مصنف ایڈن کول، جو ویسٹار انسٹی ٹیوٹ میں کیتھرین ایئرڈ کی لیبارٹری سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ کیموتھراپی سے بچ جانے والے کچھ کینسر خلیات تقسیم ہونا تو بند کر دیتے ہیں مگر حیاتیاتی طور پر متحرک رہتے ہیں، اور مختلف مالیکیولز خارج کر کے قریبی خلیات کو سگنل بھیجتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق ان ابتدائی مطالعوں میں سے ایک ہے جس میں یہ ثابت ہوا کہ ایک غذائی جز — فروکٹوز — کینسر خلیات کے مابین رابطے کے سگنل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
سینئر مصنف اور پروفیسر کیتھرین ایئرڈ کے مطابق، ابھی تک یہ اثر مریضوں پر آزمایا نہیں گیا، تاہم اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات (سٹیٹنز) کو کیموتھراپی کے ساتھ ملانا مناسب ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب بیضہ دانی کا کینسر عموماً رجونورتی کے بعد کی خواتین میں ہوتا ہے جو پہلے ہی سٹیٹنز استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔ محققین یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ میکانزم بیضہ دانی کے کینسر سے آگے دیگر اقسام تک بھی پھیلا ہوا ہے، اور خیال ہے کہ لبلبے، بڑی آنت اور جگر جیسے کینسر بھی اسی طرح کے رویے کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، البتہ اسے ابھی حتمی طور پر عمومی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سائنسی سطح پر، محققین نے دریافت کیا کہ کیموتھراپی سے پیدا ہونے والے “سینیسنس” (بڑھاپے جیسی غیر فعال حالت) کے شکار خلیات سے خارج ہونے والا فروکٹوز، قریبی کینسر خلیات کے میٹابولزم کو تبدیل کر کے انہیں پلازما میمبرین کولیسٹرول کم کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے یہ خلیات ایک دوسرے سے علیحدہ ہو کر جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج کینسر کے علاج کے بعد بیماری کے دوبارہ پھیلاؤ کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ تحقیق فی الحال لیبارٹری اور جانوروں پر کی گئی ہے، اور ابھی تک انسانی مریضوں پر اس کا تجربہ نہیں کیا گیا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان نتائج کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فروکٹوز کا معمول کا استعمال براہِ راست کینسر کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے، اور اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead