Related Articles
رکن کی اکاؤنٹنگ تضادات کی نشاندہی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی رکن برائے ٹیرف و فنانس امینہ احمد نے نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے لیے منظور کیے گئے 332 ارب روپے کے تین سالہ ریونیو ری کوائرمنٹ میں ریگولیٹری اوکاؤنٹنگ تضاادات پر سوالات اٹھا دیے۔
امینہ احمد نے نیپرا کے حالیہ 2-1 اکثریتی فیصلے کے خلاف اپنے تفصیلی اختلافی نوٹ میں کہا کہ نیشنل گرڈ کمپنی کے مالیاتی ریکارڈ میں وصولیوں اور منتقل نہ کیے گئے اثاثوں کے درمیان ایک ’’مرر امیج‘‘ موجود ہے، جسے نظر انداز کرنے سے کمپنی کے ایکویٹی اور قابل اجازت منافع کا درست تعین متاثر ہوسکتا ہے۔
نیپرا نے حال ہی میں نیشنل گرڈ کمپنی، جو پہلے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے نام سے جانی جاتی تھی، کے لیے مالی سال 2022-23، 2023-24 اور 2024-25 کا مجموعی ریونیو ری کوائرمنٹ 332 ارب روپے منظور کیا تھا۔ یہ رقم صارفین کے ٹیرف میں یوز آف سسٹم چارجز (UoSC) کے ذریعے شامل کی جائے گی۔
نیشنل گرڈ کمپنی نے تین سال کے لیے مجموعی طور پر 478 ارب روپے کی ریونیو ری کوائرمنٹ طلب کی تھی، جس میں مالی سال 2022-23 کے لیے 112 ارب روپے، 2023-24 کے لیے 163 ارب روپے اور 2024-25 کے لیے 203 ارب روپے شامل تھے۔
تاہم نیپرا نے 332 ارب روپے کی منظوری دی، جس کے تحت مالی سال 2022-23 کے لیے 81.5 ارب روپے، 2023-24 کے لیے 95.6 ارب روپے اور 2024-25 کے لیے 155 ارب روپے مقرر کیے گئے۔
فیصلے کے نتیجے میں یوز آف سسٹم چارجز مالی سال 2022-23 کے لیے 382 روپے فی کلو واٹ ماہانہ، 2023-24 کے لیے 455 روپے فی کلو واٹ ماہانہ جبکہ 2024-25 کے لیے 710 روپے فی کلو واٹ ماہانہ منظور کیے گئے۔
سی پی پی اے کی 19 ارب روپے کی رقم پر اعتراض
امینہ احمد نے نیشنل گرڈ کے مالی سال 2023-24 کے مالیاتی گوشواروں میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کو واجب الادا 19 ارب روپے سے زائد رقم کو قرض قرار دینے پر بھی اعتراض کیا۔
ان کے مطابق اکثریتی فیصلے میں اس رقم کو قرض تصور کرتے ہوئے این جی سی کے اثاثوں سے منہا کیا گیا تاکہ کمپنی کی ایکویٹی کا تعین کیا جاسکے، جس کے نتیجے میں این جی سی کے لیے قابل اجازت ریٹرن میں بھی کمی واقع ہوئی۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ جون 2015 کے بزنس ٹرانسفر ایگریمنٹ (BTA) کے تحت این جی سی نے مارکیٹ آپریشنز انڈرٹیکنگ سے متعلق اثاثے اور واجبات سی پی پی اے کو منتقل کیے تھے۔ تاہم منتقل کیے گئے واجبات کی مالیت منتقل کیے گئے اثاثوں سے زیادہ ہونے کے باعث این جی سی کے ذمے ایک خالص قابل ادائیگی رقم پیدا ہوئی۔
یہ معاہدہ متعدد مرتبہ توسیع کے بعد 30 جون 2024 تک 19 ارب روپے سے زائد کی رقم تک پہنچ چکا تھا۔
وصولیوں کو نظر انداز کرنے سے ایکویٹی متاثر ہوئی
امینہ احمد کے مطابق اسی معاملے کے مقابلے میں این جی سی کے موجودہ اثاثوں میں ایک متعلقہ رقم بھی درج تھی، جو ایڈوانسز اور دیگر وصولیوں کے تحت بعض پاور سیکٹر اداروں سے وصول کی جانی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان وصولیوں کا ایک حصہ دراصل اس اثاثے کی ’’مرر امیج‘‘ ہے جو سی پی پی اے کو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔ اگر یہی وصولی بھی اسی بزنس ٹرانسفر ایگریمنٹ کے تحت سی پی پی اے کو منتقل کردی جاتی تو این جی سی کی کتابوں میں مذکورہ واجب الادا رقم موجود نہ رہتی۔
ان کے مطابق سی پی پی اے کو واجب الادا رقم کا این جی سی کے طویل مدتی اثاثوں کی فنانسنگ سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے اسے طویل مدتی قرض کے برابر قرار دینا درست نہیں۔
’’ایک جانب کی رقم تسلیم کرنا درست نہیں‘‘
نیپرا رکن نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ واجب الادا رقم اور اس کے مقابل موجود وصولی دراصل ایک ہی مالی پوزیشن کے دو رخ ہیں، اس لیے صرف واجب الادا رقم کو تسلیم کرکے اس کے مقابل موجود اثاثے یا وصولی کو نظر انداز کرنے سے این جی سی کی ایکویٹی کی تصویر مسخ ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یا تو دونوں رقوم کو ایک دوسرے کے مقابل ایڈجسٹ کیا جائے یا پھر دونوں کو حساب سے خارج کیا جائے، لیکن صرف واجبات کو تسلیم کرنا اور متعلقہ اثاثے کو نظر انداز کرنا درست طریقہ نہیں۔
امینہ احمد نے مزید کہا کہ نیپرا کے طریقہ کار کے تحت ایکویٹی کا تعین مقررہ فارمولوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس میں فکسڈ اور کرنٹ اثاثوں کو جمع کرکے غیر موجودہ اور موجودہ واجبات منہا کیے جاتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ واجبات کے تعین کے لیے عملی طور پر موجودہ اثاثوں کا دو تہائی حصہ مقرر کیا جاتا ہے، جس سے حقیقی مالیاتی پوزیشن کی عکاسی متاثر ہوسکتی ہے۔
اختلافی نوٹ میں اٹھائے گئے اعتراضات کے باعث نیشنل گرڈ کمپنی کے ریونیو ری کوائرمنٹ، ایکویٹی اور صارفین سے وصول کیے جانے والے یوز آف سسٹم چارجز کے تعین کے طریقہ کار پر مزید بحث کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔
UrduLead UrduLead
