
پی ایچ ایف نے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے لیے 20 رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا، پاکستان کا پول ڈی میں بھارت، انگلینڈ اور ویلز سے مقابلہ — تاہم پرو لیگ میں مسلسل شکستوں کے بعد ٹیم کی فارم پر سوالات برقرار
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 20 رکنی سکواڈ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کی میزبانی بیلجیم اور نیدرلینڈز مشترکہ طور پر 15 سے 30 اگست تک کریں گے۔ چار بار کی سابق عالمی چیمپئن پاکستانی ٹیم ایک بار پھر عالمی ہاکی کے سب سے بڑے میدان میں واپسی کے لیے تیار ہے۔
ٹیم کی قیادت کپتان ابوبکر محمود کریں گے، جبکہ رانا وحید اشرف کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

سکواڈ کی مکمل تفصیل
گول کیپرز: علی رضا، وقار
ڈیفنڈرز: محمد عبداللہ، سفیان خان، ابوبکر محمود (کپتان)، عماد شکیل بٹ، حماد انجم، عبدالمنان
مڈفیلڈرز: ذکریا حیات، معین شکیل، عمر مصطفیٰ، غضنفر علی، ارشد لیاقت
فارورڈز: محمد عماد، رانا وحید اشرف (نائب کپتان)، حنان شاہد، افراز خان، احمد ندیم، عبدالرحمٰن، عدیل لطیف
ٹیم مینجمنٹ: ہیڈ کوچ باب یوہان ویلڈہوف، اسسٹنٹ کوچ کرسٹوفر جان بووین، اسسٹنٹ کوچ عدنان ذاکر، ٹیم مینیجر محمد اویس قرنی، ویڈیو اینالسٹ سلطان اشرف
پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی نے سکواڈ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم ترین ٹورنامنٹ کے لیے تجربہ کار کھلاڑیوں اور نوجوان ٹیلنٹ کے مابین متوازن امتزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیم کا بغور انتخاب کیا گیا ہے۔
پاکستان یہاں تک کیسے پہنچا؟
پاکستان نے ورلڈ کپ کوالیفائرز کے ذریعے اس ٹورنامنٹ میں جگہ بنائی، جہاں مارچ میں مصر کے شہر اسماعیلیہ میں ایس سی اے ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں جاپان کو شکست دی۔ جاپان کے خلاف یہ کامیابی پاکستانی ہاکی کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، کیونکہ ٹیم گزشتہ کئی ایڈیشنز میں ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں ناکام رہی تھی، اور یہ کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی جب ملکی ہاکی کا انتظامی ڈھانچہ اور کارکردگی برسوں سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔
قرعہ اندازی: ایک بار پھر روایتی حریف بھارت سے ٹاکرا
مارچ میں ایمسٹرڈیم کے واگنر اسٹیڈیم میں ہونے والی سرکاری قرعہ اندازی میں پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے ساتھ ساتھ انگلینڈ اور ویلز کے ہمراہ مینز ٹورنامنٹ کے پول ڈی میں شامل کیا گیا، جو نیدرلینڈز میں کھیلا جائے گا۔ اس قرعہ اندازی نے فوری طور پر ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ متوقع مقابلوں میں سے ایک کی راہ ہموار کر دی، کیونکہ دونوں جنوبی ایشیائی ہاکی طاقتوں کے مابین طویل اور تاریخی رقابت رہی ہے — دونوں ٹیمیں اس سے قبل ورلڈ کپ میں پانچ مرتبہ ایک دوسرے کے مدِمقابل آ چکی ہیں، جن میں سے دو مقابلے بھارت نے جیتے۔
عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر موجود انگلینڈ اس گروپ کی سب سے اونچی درجہ بندی والی ٹیم ہے، اس کے بعد بھارت آٹھویں، پاکستان بارہویں، اور ویلز سولہویں نمبر پر ہے۔ ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق ہر پول سے سرِفہرست دو ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی، جہاں پول ڈی کی کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں پول اے کی ٹیموں کے ساتھ مل کر سیمی فائنل سے قبل ایک نیا گروپ تشکیل دیں گی۔ ٹورنامنٹ کا فائنل 30 اگست کو بیلجیم کے شہر ویورے میں نئے تعمیر شدہ بیلفیئس ہاکی ایرینا میں کھیلا جائے گا۔
غیر یقینی تیاری
ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کی تیاریاں خاصی تشویشناک رہی ہیں۔ گرین شرٹس کو ایف آئی ایچ پرو لیگ مہم میں سخت مشکلات کا سامنا رہا، جہاں ٹیم دنیا کی صفِ اول کی ٹیموں کے خلاف تمام مقابلے ہار کر پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلے مقام پر رہی — ایک ایسی کارکردگی جس نے ٹیم کی مسابقتی صلاحیت پر سوالات کو مزید تقویت دی ہے اور ملک میں ہاکی کی انتظامی سمت پر بھی نئے سرے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مسلسل ناکام مہم کے باوجود پی ایچ ایف حکام نے نئے اعلان کردہ سکواڈ پر اپنے اعتماد کا کھلے عام اظہار کیا ہے، جبکہ ٹیم اب ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل کیمپ میں تیاریاں شروع کرنے جا رہی ہے۔
UrduLead UrduLead