Related Articles

نئی ٹیموں کی ریکارڈ نیلامی نے لیگ کی مالی تصویر مزید پیچیدہ بنا دی
پاکستان سپر لیگ میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود فرنچائز مالکان کے لیے منافع کمانا اب بھی بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ نئی ٹیموں کی ریکارڈ توڑ قیمتوں نے لیگ کی بڑھتی تجارتی قدر ضرور ظاہر کی ہے، تاہم فرنچائز آپریشنز کے بڑھتے اخراجات نے مالی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔
آٹھ ٹیموں تک توسیع
پی ایس ایل کا آغاز 2016 میں پانچ ٹیموں کے ساتھ ہوا تھا۔ ایک دہائی بعد لیگ آٹھ ٹیموں تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق 2026 میں حیدرآباد اور سیالکوٹ کی شمولیت کے بعد لیگ نے آٹھ فرنچائزز کا مرحلہ باضابطہ طور پر شروع کیا۔
نئی فرنچائزز کی ریکارڈ نیلامی — تفصیلات
9 جنوری 2026 کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی نیلامی نے پی ایس ایل کی مالی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ ساتویں ٹیم کی بنیادی قیمت 110 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی، جس پر شدید بولی کے بعد امریکا میں مقیم ایف کے ایس گروپ، جس کی قیادت فواد سرور کر رہے ہیں، نے 1 ارب 75 کروڑ روپے کی جیتنے والی بولی دیتے ہوئے چھ دستیاب شہری ناموں میں سے حیدرآباد کا انتخاب کیا۔ آٹھویں ٹیم کے لیے بنیادی قیمت 170 کروڑ روپے مقرر کی گئی، جس پر سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی کے باعث دو مرتبہ اسٹریٹیجک ٹائم آؤٹ بلایا گیا، اور بالآخر آسٹریلوی او زیڈ گروپ نے، جس کی قیادت حمزہ مجید کر رہے ہیں، 1 ارب 85 کروڑ روپے میں آٹھویں ٹیم حاصل کی اور سیالکوٹ کا نام منتخب کیا۔
یہ رقم لیگ کی موجودہ ٹیموں کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ اس وقت سب سے مہنگی موجودہ فرنچائز لاہور قلندرز صرف 67 کروڑ روپے (تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر) کی نسبتاً معمولی سالانہ فیس ادا کرتی ہے، جبکہ قلندرز، کراچی کنگز، پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مجموعی سالانہ فیس تقریباً 2 ارب 62 کروڑ روپے بنتی ہے — جو حیدرآباد اور سیالکوٹ کی مشترکہ فیس سے ایک تہائی کم ہے۔
عالمی موازنہ: آئی پی ایل کے مقابلے میں کتنا فرق؟
پاکستانی کرکٹ کے لیے یہ نیلامی ریکارڈ ساز ضرور تھی، مگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو اعداد و شمار مختلف کہانی سناتے ہیں۔ حیدرآباد اور سیالکوٹ کی دونوں نئی فرنچائزز مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ 27 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئیں — یہ رقم آئی پی ایل 2026 کی نیلامی میں محض نو سرفہرست کھلاڑیوں پر خرچ ہونے والی رقم سے بھی کم ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ کی ‘دی ہنڈریڈ’ لیگ کی تمام آٹھ فرنچائزز کی مجموعی مالیت محض 8 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے، جبکہ آئی پی ایل کی متعدد ٹیموں کی مالیت 2025 میں 20 سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان لگائی گئی تھی۔ یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ایس ایل کی ترقی خطے میں نمایاں ہے، لیکن عالمی بڑی لیگز سے اب بھی کافی فاصلہ باقی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی
نیلامی کی سب سے نمایاں بات بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی کمپنیوں کی شرکت رہی۔ نیلامی میں کل نو بولی دہندگان نے شرکت کی، جو ایچ بی ایل پی ایس ایل کی بڑھتی تجارتی قوت، عالمی کشش اور طویل المدتی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے نئے فرنچائز مالکان کے ساتھ پریس کانفرنس میں بتایا کہ توسیعی نیلامی نے شدید بین الاقوامی دلچسپی حاصل کی، جس میں پانچ امریکا میں مقیم کمپنیوں نے شرکت کی جسے انہوں نے ‘انتہائی مسابقتی’ بولی کا عمل قرار دیا۔
سیالکوٹ کے نئے مالک نے جذباتی انداز میں کہا: ‘خدا نے ہمیں کامیاب ہونے کا موقع دیا۔ ایک بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کے طور پر، پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہر کسی کا خواب ہوتا ہے۔ کرکٹ ہمارے خون میں شامل ہے۔’
ملتان سلطانز کا معاملہ اور علی ترین کی علیحدگی
نیلامی سے قبل ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین کا پی سی بی سے اختلاف بھی زیرِ بحث رہا۔ علی ترین کی نئی فرنچائزز میں سے کسی ایک کے لیے بولی دینے کی توقع تھی، مگر انہوں نے آخری لمحات میں دستبرداری اختیار کر لی۔ بعد ازاں 9 فروری کو ملتان سلطانز کی نیلامی ہوئی، جس میں نئے مالکان نے اعلان کیا کہ ٹیم اب راولپنڈی سے کھیلے گی، ملتان سے نہیں۔
موجودہ فرنچائزز کے لیے مالی دباؤ برقرار
نئی ٹیموں کی بلند قیمتوں نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی ضرور ظاہر کی، تاہم موجودہ فرنچائز مالکان کے لیے تصویر مختلف ہے۔ ملتان سلطانز کے (سابق) مالک گوہر شاہ کے مطابق انہوں نے فرنچائز مالی منافع کے بجائے کرکٹ سے محبت کے تحت خریدی تھی اور انہیں ابتدا ہی سے علم تھا کہ منصوبے میں نقصان کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق ٹی وی حقوق سے حاصل ہونے والی آمدن محدود ہو چکی ہے، جبکہ اسپانسرشپ آمدن میں اضافہ اخراجات کی رفتار سے کم رہ سکتا ہے۔
پی ایس ایل کی ابتدائی پانچ فرنچائزز کو بھی منافع بخش مرحلے تک پہنچنے میں کئی سال لگے، کیونکہ انہوں نے لیگ کے ابتدائی برسوں میں کم فرنچائز فیس کے باعث نسبتاً کم مالی خطرہ برداشت کیا تھا۔ نئی ٹیموں کے لیے صورتحال مختلف ہے کیونکہ انہیں زیادہ قیمت پر حقوق حاصل ہوئے ہیں، اور اخراجات میں فرنچائز فیس کے ساتھ کھلاڑیوں کی تنخواہیں، مارکیٹنگ اور انتظامی اخراجات بھی شامل ہیں۔
تاریخ کی سب سے بڑی براڈکاسٹنگ ڈیل
پی ایس ایل کی مالی تصویر میں میڈیا حقوق سب سے اہم آمدنی کے ذرائع میں شامل ہیں۔ فروری 2026 میں پی سی بی نے 2026 سے 2029 تک ٹی وی اور لائیو اسٹریمنگ حقوق کے لیے 26 ارب 11 کروڑ روپے کی پیشکش قبول کی، جسے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی براڈکاسٹنگ ڈیل قرار دیا گیا۔ تاہم میڈیا حقوق میں اضافہ فرنچائز مالکان کے لیے فوری منافع کی ضمانت نہیں دیتا، کیونکہ ٹیموں کو آمدن کے ساتھ بڑھتے آپریشنل اخراجات، کھلاڑیوں کے معاوضوں اور مارکیٹنگ لاگت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
لاہور قلندرز کے شریک مالک ثمین رانا کے مطابق فرنچائزز نے ابتدا میں طویل المدتی تجارتی ترقی کی توقع پر سرمایہ کاری کی تھی، اور لیگ میں ترقی کی گنجائش موجود ہے، مگر آمدن کے نئے ذرائع تلاش کرنا ضروری ہوگا۔ حیدرآباد فرنچائز کے مالک فواد سرور نے بھی سرمایہ کاری کو پی ایس ایل کی مستقبل کی قدر سے جوڑا، اور مکمل مالی جانچ کے بعد انہیں لیگ میں طویل المدتی کمرشل امکانات نظر آئے۔
پی ایس ایل کے لیے اگلا مرحلہ آمدن کے نئے ذرائع پیدا کرنا ہوگا۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، عالمی اسپانسرشپ اور نئے تجارتی ماڈلز لیگ کی مالی پائیداری بہتر کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں پی ایس ایل کی بڑھتی قدر سرمایہ کاروں کے لیے مثبت اشارہ ہے، تاہم فرنچائزز کی طویل المدتی کامیابی کا انحصار آمدن اور اخراجات کے بہتر توازن پر ہوگا۔
UrduLead UrduLead