
نیٹ میٹرنگ صارفین کی بے چینی اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران روف ٹاپ سولر نے جتنی تیزی سے مقبولیت حاصل کی، اتنی ہی تیزی سے اب حکومت اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اسے محدود کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ نیپرا نے 9 فروری 2026 کو ’’پروزیومر ریگولیشنز 2026‘‘ کے نام سے نئے ضوابط جاری کیے، جن کے تحت دہائیوں پرانا نیٹ میٹرنگ نظام ختم کر کے اس کی جگہ ’’نیٹ بلنگ‘‘ کا نیا طریقہ کار متعارف کرایا گیا۔ اسی اقدام کو تجزیہ کار اب ملک میں ’’ڈی سولرائزیشن‘‘ کی کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں۔
یک بہ یک تبدیلی، شدید ردعمل
پرانے نظام کے تحت صارف کی جانب سے گرڈ کو بھیجا گیا ہر یونٹ، درآمد کیے گئے یونٹ کے برابر شمار ہوتا تھا۔ نئے نیٹ بلنگ فارمولے کے تحت برآمدی یونٹ کی قیمت گھٹا کر تقریباً 11 سے 13 روپے فی یونٹ کر دی گئی — جو پہلے تقریباً 26 سے 27 روپے فی یونٹ تھی — جبکہ درآمدی بجلی اب بھی 40 سے 55 روپے فی یونٹ کے کمرشل ٹیرف پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ نئے صارفین کے معاہدے کی مدت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی گئی۔
اس نوٹیفکیشن کے فوری بعد ملک بھر میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن، صنعتی تنظیموں اور ہزاروں گھریلو صارفین نے احتجاج کیا اور خبردار کیا کہ اچانک پالیسی تبدیلی سے ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر بھی شدید غم و غصہ دیکھا گیا؛ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے لکھا کہ حکومت کے پاس توانائی کے شعبے کے مسائل کا کوئی حل نہیں اور شہریوں کو حکومتی نااہلی کا خمیازہ کیوں بھگتنا پڑے۔ سینیٹر شیری رحمان نے بھی خبردار کیا کہ نئے ضوابط ملک کی توانائی منتقلی کی رفتار سست کر دیں گے اور ماحولیاتی وعدوں سے متصادم ہوں گے۔
عام صارفین کی جانب سے بھی نیپرا کے شکایتی پورٹل اور سرکاری اداروں کو درخواستیں بھیجی گئیں، جن میں موقف اپنایا گیا کہ سات سالہ معاہدوں کے دوران ہی نیٹ میٹرنگ ختم کرنا معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
حکومتی یو ٹرن اور جزوی رول بیک
عوامی دباؤ کے باعث وزیراعظم شہباز شریف نے 15 فروری کو وزارتِ توانائی اور نیپرا کو ہدایت کی کہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے تاکہ ’’موجودہ صارفین متاثر نہ ہوں‘‘۔ اس کے نتیجے میں نیپرا نے مسودہ ترامیم جاری کیں، جن کے تحت موجودہ نیٹ میٹرڈ صارفین کو ان کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے تک پرانے قواعد کے تحت ہی رکھا گیا۔ اپریل میں وفاقی وزیر توانائی نے مزید نرمی دیتے ہوئے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی کہ 8 فروری سے پہلے جمع کرائی گئی درخواستیں پرانے سازگار قواعد کے تحت ہی نمٹائی جائیں۔ تاہم وزیر توانائی کا یہ مؤقف بھی زیرِ بحث آیا کہ نئی پالیسی صرف ایک فیصد صارفین کو متاثر کرتی ہے، جبکہ بجلی چوری، کم ریکوری اور نظام کے دیگر بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
بنیادی وجہ: مالی دباؤ اور ’’ڈک کرو‘‘
حکومت اور نیپرا کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی بے تحاشا مقبولیت — جس کے باعث آن گرڈ صلاحیت 7 ہزار میگاواٹ اور آف گرڈ نظام 13 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکے ہیں — نے دن کے اوقات میں طلب و رسد میں شدید عدم توازن (ڈک کرو) پیدا کر دیا ہے، جس سے قومی گرڈ اور بجلی کمپنیوں پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیکسز، سرچارجز — خصوصاً ڈیبٹ سروسنگ سرچارج — اور آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ بھی صارفین ہی پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ صارفین کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
صارفین کا نیا رجحان: خود انحصاری اور بیٹری اسٹوریج
ماہرین کے مطابق نئی پالیسی کے باوجود سولر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی حکمتِ عملی بدل گئی ہے۔ اب صارفین برآمد کے بجائے خود استعمال (سیلف کنزمپشن) پر توجہ دے رہے ہیں اور ہائبرڈ انورٹرز کے ساتھ 14 سے 16 کلوواٹ آور صلاحیت کی بیٹریاں نصب کروا رہے ہیں تاکہ سستی نیٹ بلنگ ایکسپورٹ ریٹ پر انحصار کم ہو۔ یہی رجحان دیہی و شہری دونوں علاقوں میں آف گرڈ نظاموں کی مانگ میں اضافے کا سبب بن رہا ہے — یعنی حکومت کی جو پالیسی گرڈ پر بوجھ کم کرنے کے لیے بنائی گئی، وہ عملاً صارفین کو گرڈ سے مزید دور لے جا رہی ہے۔
غیر یقینی صورتحال برقرار
نیپرا نے ترمیمی مسودے پر عوامی آراء کے لیے 30 دن کی مہلت دی تھی، تاہم حتمی پالیسی تاحال مکمل طور پر نافذ العمل نہیں ہو سکی، جس سے سرمایہ کاروں اور نئے صارفین دونوں کے لیے غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بار بار کی پالیسی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جبکہ حکومت کو سستی صاف توانائی اور مالی طور پر پائیدار پاور سیکٹر کے مابین توازن قائم کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔
UrduLead UrduLead