
بٹکوائن مائننگ سے AI کی طرف منتقلی، برٹزیرو (AIBZ) کی بڑی پیش قدمی
مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیٹا سینٹرز عالمی توانائی کے ذخائر پر بھاری دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ایک نئی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں ڈیٹا سینٹرز نے دنیا بھر کی گرڈز سے تقریباً 415 ٹیراواٹ آور بجلی استعمال کی، جو تیل کے تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار بیرل روزانہ کے برابر ہے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق 2030 تک یہ طلب دگنا ہو کر 945 ٹیراواٹ آور تک پہنچ جائے گا، یعنی روزانہ 15 لاکھ بیرل تیل کے برابر توانائی۔ یہ ایک درمیانے درجے کے تیل پیدا کرنے والے ملک کی یومیہ پیداوار کے برابر ہے۔
اس سے پہلے بٹکوائن مائننگ کو توانائی کا بڑا استعمال سمجھا جاتا تھا۔ 2017 میں ایک بٹکوائن بنانے میں تقریباً 20 بیرل تیل کے برابر توانائی درکار تھی، جو اب بڑھ کر 500 بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
بٹکوائن نیٹ ورک سالانہ 138 سے 175 ٹیراواٹ آور بجلی استعمال کرتا ہے۔ تاہم، AI ڈیٹا سینٹرز اب اس سے بھی بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
برٹزیرو کی حکمت عملی
اس توانائی کی دوڑ میں کینیڈا کے مشہور سرمایہ کار اور Shark Tank کے “مسٹر ونڈر فل” کیون او لیری نے برٹزیرو ہولڈنگز انک (AIBZ) میں سرمایہ کاری کی ہے۔ کمپنی بٹکوائن مائننگ کے ذریعے کم لاگت والی بجلی حاصل کر کے AI ڈیٹا سینٹرز کی طرف منتقلی کر رہی ہے۔
برٹزیرو نے ناروے، فن لینڈ اور امریکہ (نارتھ ڈکوٹا) میں ایک گیگاواٹ سے زائد بجلی کی گنجائش محفوظ کر رکھی ہے۔ ناروے کے نامسکوگن میں واقع ان کا 40 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بجلی کی لاگت 5 سینٹ فی کلو واٹ آور سے بھی کم رکھتا ہے۔
5 مئی کو کمپنی نے OneQode Networks کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کیا ہے۔ اس کے تحت ناروے کی 110 میگاواٹ کی سائٹ کو 15 سال کے لیے AI ورک لوڈز کے لیے لیز پر دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی مالیت تقریباً 26 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس سے برٹزیرو کو سالانہ 17 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک آمدنی متوقع ہے۔
کمپنی کے سی ای او محمد بخش وین کا کہنا ہے کہ “ہم ڈیٹا سینٹرز میں داخل نہیں ہو رہے، بلکہ ہم ان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔” برٹزیرو بجلی کی پیداوار اور انفراسٹرکچر کو خود کنٹرول کرتی ہے، جس سے گرڈ کی پریشانیوں اور زیادہ فیسوں سے بچا جا سکتا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
گلوبل ڈیٹا سینٹر کی گنجائش 2030 تک تقریباً دگنی ہو جائے گی، جس کے لیے 100 گیگاواٹ نئی بجلی کی ضرورت پڑے گی۔ جے ایل ایل کے مطابق اس شعبے میں 3 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ مگر بجلی کی سپلائی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔
امریکہ اور یورپ میں گرڈ کنکشن کے انتظار کا وقت 4 سال سے زیادہ ہو چکا ہے۔ناروے اور فن لینڈ ہائیڈرو اور نیوکلیئر پاور کی وجہ سے AI انفراسٹرکچر کے لیے پرکشش مقام بنتے جا رہے ہیں۔
برٹزیرو جیسے ادارے بٹکوائن مائننگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صاف توانائی کے ذرائع (ہائیڈرو، ونڈ، نیوکلیئر) پر AI کمپیوٹنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں سستا اور صاف بجلی کا حصول ہی AI اور ڈیجیٹل انڈسٹری کی کامیابی کی کنجی ہو گا۔
برٹزیرو جیسی کمپنیاں اس تبدیلی میں آگے ہیں جہاں بٹکوائن کی پرانی توانائی کی ضروریات اب AI کی نئی بھوک کو پورا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف توانائی کی عالمی سیاست بدل رہی ہے بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے نئے مراکز بھی تشکیل دے رہی ہے۔
UrduLead UrduLead