منگل , جون 23 2026

ایرانی صدر مسعود کا اسلام آباد کا اہم دورہ

علاقائی سفارتکاری میں نئی پیش رفت کی توقع

ایرانی صدر مسعود پزشکیان منگل کے روز پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جسے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ دورہ نہ صرف ایران کی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے بلکہ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے ثالثی کردار کی بھی توثیق سمجھا جا رہا ہے۔ صدر پزشکیان کی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں سفارتی روابط کو تیز کیا ہے، خاص طور پر جب سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

دورے کے دوران ایرانی صدر کی ملاقات وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے متوقع ہے۔ مذاکرات میں دوطرفہ تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ اسی پس منظر میں اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کو سیاسی رابطوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پزشکیان کا یہ دورہ علامتی طور پر بھی اہم ہے، کیونکہ یہ ان کا حالیہ عالمی کشیدگی کے بعد پہلا بڑا غیر ملکی دورہ ہے۔ اس سے قبل ایران کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں اور خطے میں کشیدگی کا سامنا رہا، جس کے بعد تہران نے اپنی سفارتی حکمت عملی کو دوبارہ ترتیب دیا ہے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات اگرچہ حالیہ برسوں میں کئی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے، تاہم 2024 کے اوائل میں سرحدی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے فوری طور پر سفارتی سطح پر رابطے بحال کر کے تعلقات کو مستحکم کیا۔ بعد ازاں اعلیٰ سطحی دوروں اور معاہدوں کے ذریعے تعاون میں مزید بہتری آئی۔

تازہ پیش رفت میں دونوں ممالک نے تجارت کے حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، جبکہ توانائی اور سرحدی تعاون کے منصوبوں پر بھی پیش رفت جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اب محض سہولت کار نہیں بلکہ علاقائی مذاکراتی عمل کا اہم سیاسی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق خطے میں جاری مذاکراتی عمل کے دوران پاکستان کا کردار اعتماد سازی اور سیاسی روابط کی بحالی میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ ایران اس عمل کو اپنی خودمختار سفارت کاری کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

صدر پزشکیان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور آئندہ 60 روز کو خطے کی سیاسی سمت کے تعین کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فرانس، ارجنٹینا کی فتوحات، عراق، آسٹریا کو شکست

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کے اہم میچز میں فرانس، ارجنٹینا، ناروے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے