پیر , جون 22 2026

امریکا۔ایران مذاکرات: 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق

پاکستان اور قطر نے اعلان کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے روز حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔

پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق امریکا اور ایران نے مستقبل کے تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی “ڈی کنفلیکشن سیل” قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایرانی تیل پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کے ایک حصے کی رہائی پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ “دھمکی آمیز بیان” کے بعد ایرانی وفد نے امریکا کے ساتھ چار فریقی مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اگر ایران لبنان میں اپنے اتحادی گروہوں کو قابو میں نہ رکھ سکا تو امریکا دوبارہ سخت کارروائی کرے گا۔

بقائی کے مطابق ایرانی وفد کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اب تکنیکی ماہرین پر مشتمل ٹیمیں اس ہفتے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں گی۔

ادھر بین الاقوامی امور کے ماہر تھامس وارک نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات انتہائی پیچیدہ ہوں گے اور ممکن ہے کہ انہیں مکمل ہونے میں 60 روز سے زیادہ وقت درکار ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور منجمد اثاثوں جیسے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان پر اتفاق رائے حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

دریں اثنا، ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی خبروں کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ملائیشین فضائی کمپنی ایئر ایشیا ایکس کے چیف ایگزیکٹو بو لنگم نے کہا ہے کہ جیٹ فیول کی قیمتوں میں کمی کے باعث کمپنی نے 15 جون سے فضائی کرایوں میں 5 فیصد کمی کر دی ہے اور اگر ایندھن مزید سستا ہوا تو کرایوں میں مزید کمی کی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل اور توانائی کی منڈیوں میں بھی استحکام آنے کا امکان ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

EV گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز مسترد

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے الیکٹرک اور دیگر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے