اتوار , جون 21 2026

سوئٹزرلینڈ: امریکا، ایران مذاکرات کا آغاز

حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ سفارتی عمل شروع

سوئٹزرلینڈ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جن کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری معاہدے کو عملی شکل دینا اور ایک جامع حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے نمائندہ وفود نے مذاکراتی عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد عبوری معاہدے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق حتمی معاہدے کی شرائط طے کرنے کے لیے ماہرین اور تکنیکی ٹیموں پر مشتمل خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عبوری مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد کی نگرانی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے الگ فالو اپ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ تمام فریق نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے اور ایک جامع، پائیدار اور قابل عمل معاہدے تک پہنچنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ قطر نے اس عمل میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ان کے مطابق سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری معاہدے کے لیے عبوری معاہدے سے حتمی معاہدے تک پہنچنے میں 597 دن لگے تھے، جبکہ موجودہ مذاکرات کے لیے صرف دو ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری ترجیحات میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنا، جنگ بندی کے معاہدے کو کسی بھی خلاف ورزی سے محفوظ رکھنا اور جوہری پروگرام سمیت پیچیدہ تکنیکی معاملات پر پیش رفت شامل ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے معاملات میں سفارت کاروں کے ساتھ جوہری سائنس دانوں اور تکنیکی ماہرین کا کردار بھی انتہائی اہم ہوگا۔

ادھر امریکا میں بھی ایران معاہدے پر بحث جاری ہے۔ بعض حلقے معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں استحکام اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کے لیے مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ کئی اہم معاملات ابھی تک حل طلب ہیں اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سخت مذاکرات درکار ہوں گے۔

مبصرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والا یہ سفارتی عمل خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی کامیابی یا ناکامی مشرق وسطیٰ کے امن، عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

جرمنی، جاپان اور نیدرلینڈز کی فتوحات

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کے میچز میں جرمنی، نیدرلینڈز اور جاپان نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے