جمعرات , جون 18 2026

US-Iran ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط

شہباز شریف نے تاریخی پیش رفت قرار دے دی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ (Islamabad Memorandum of Understanding) پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر آج باضابطہ طور پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ انہوں نے بطور ثالث اس کی توثیق کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی جانب سے تنازع کے سفارتی حل اور امن کے لیے سنجیدہ عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی، جس کے تحت ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے امن پسند مؤقف نے ایک ایسے تنازع کا خاتمہ ممکن بنایا جو پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی قیادت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت اور دانشمندی نے امن کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے اراکین محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔

بیان میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی مسلسل کوششوں اور علاقائی استحکام کے لیے کردار نے اس سفارتی کامیابی میں کلیدی حصہ ڈالا۔

معاہدے کے تحت 14 نکاتی فریم ورک پر اتفاق کیا گیا ہے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، 60 روزہ مذاکراتی عمل، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، ایرانی تیل کی برآمدات کی اجازت، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز کے گرد عائد پابندیاں ختم کرے گا جبکہ ایران عالمی منڈیوں میں تیل کی فراہمی بحال کرے گا۔ معاہدے میں ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ اقتصادی منصوبے اور مرحلہ وار پابندیوں کے خاتمے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کو امریکا کے لیے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں سے متعلق معاملات ابھی بھی مکمل طور پر حل طلب ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

سجل علی-احد رضا میر پھر سوشل میڈیا بحث کا مرکز

سجل علی اور احد رضا میر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے