
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے الیکٹرک اور دیگر نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر اعتراض اٹھا دیا ہے، جس کے باعث نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی منظوری میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت پاکستان نے تجویز دی تھی کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر 18 فیصد کے بجائے نصف شرح سے سیلز ٹیکس عائد کیا جائے، جبکہ الیکٹرک اور نئی توانائی والی گاڑیوں (نیو انرجی وہیکلز) پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جائے۔ تاہم آئی ایم ایف نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مزید وضاحت طلب کر لی ہے۔
یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت موجودہ آٹو پالیسی کی مدت ختم ہونے سے قبل 24 جون تک نئی آٹو پالیسی 2026-31 کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت تجارت کے درمیان ٹیرف ڈھانچے سے متعلق اختلافات بھی پالیسی کی منظوری میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
وزارت صنعت و پیداوار نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے متعدد مراعات تجویز کی ہیں۔ ان میں الیکٹرک گاڑیوں کے مخصوص پرزہ جات کی درآمد پر پہلے تین سال کے لیے صرف ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی، درآمدی پرزہ جات پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ، اور مقامی طور پر تیار و فروخت ہونے والی نئی توانائی کی گاڑیوں پر پانچ سال تک ایک فیصد سیلز ٹیکس شامل ہے۔
اس کے علاوہ وزارت نے الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی رعایت دینے کی سفارش کی ہے تاکہ صارفین کو ماحول دوست گاڑیوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔
دوسری جانب وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف تمام گاڑیوں پر یکساں 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کے حق میں ہے اور اگر حکومت کسی شعبے کو سہولت دینا چاہتی ہے تو یہ رعایت براہ راست سبسڈی کی صورت میں دی جائے، نہ کہ ٹیکس میں کمی کے ذریعے۔
مجوزہ آٹو پالیسی میں مقامی صنعت کے فروغ پر بھی زور دیا گیا ہے۔ پالیسی کے تحت 2030 تک دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں، بشمول الیکٹرک موٹر سائیکلوں، میں مقامی ویلیو ایڈیشن کو 85 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پالیسی میں مہنگی روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں پر زیادہ محصولات عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ صارفین کو بتدریج ماحول دوست اور کم آلودگی پیدا کرنے والی گاڑیوں کی طرف منتقل کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان جاری مشاورت کے بعد ہی نئی آٹو پالیسی کی حتمی شکل سامنے آئے گی، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ سرمایہ کار اور صنعت کار اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
UrduLead UrduLead