منگل , اپریل 28 2026

آئی ایم ایف سے $1.2 ارب قسط اگلے ماہ متوقع

حکومت کمرشل فنانسنگ اور پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری میں مصروف

وفاقی وزیرِ خزانہ Muhammad Aurangzeb نے کہا ہے کہ پاکستان کو آئندہ ماہ International Monetary Fund سے 1.2 ارب ڈالرز کی قسط موصول ہونے کی توقع ہے، جو جاری پروگرام کے تحت اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا وفد مئی کے وسط میں پاکستان کا دورہ کرے گا، جہاں نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے بجٹ کی تیاری کر رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت سعودی عرب کے بعد مزید دوست ممالک سے نئی فنانسنگ لینے کا ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ اب توجہ کمرشل فنانسنگ کے حصول پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان بتدریج دوطرفہ قرضوں کے بجائے مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، جو معیشت کے استحکام کے لیے اہم قدم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مئی میں 25 کروڑ ڈالرز مالیت کا پانڈا بانڈ جاری کیا جائے گا، جس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) نے گارنٹی فراہم کر دی ہے۔ اس حوالے سے چینی حکام کے ساتھ بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ دو سے تین برسوں میں مزید یورو بانڈز اور سکوک بانڈز بھی جاری کیے جائیں گے تاکہ عالمی مالیاتی منڈیوں سے سرمایہ حاصل کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور حالیہ پالیسی اقدامات کے نتیجے میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ State Bank of Pakistan کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری دیکھی گئی ہے، جو معاشی بحالی کے اشارے ہیں۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ ضرور ہے، تاہم پاکستان میں کھاد کی دستیابی اور فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بھی مستحکم ہیں اور جنگی حالات کے باوجود ان میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی، خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قسط کی متوقع وصولی پاکستان کے لیے اہم سنگ میل ہوگی، جبکہ کمرشل فنانسنگ اور بانڈز کے اجرا سے ملک کی مالیاتی حکمت عملی میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔ آنے والے بجٹ اور عالمی معاشی حالات اس سمت کا تعین کریں گے کہ پاکستان کس حد تک پائیدار معاشی استحکام حاصل کر پاتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PSL11 کوالیفائر آج کراچی میں کھیلا جائے گا

ٹاپ ٹیموں کے درمیان فائنل تک رسائی کی جنگ پاکستان سپر لیگ 2026 اپنے فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے