
ملک بھر میں قدرتی گیس کا شارٹ فال 600 ملین کیوبک فٹ یومیہ سے بڑھ گیا ہے، جس سے گھریلو صارفین، بجلی کی پیداوار اور صنعتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، علاقائی تنازعات کی وجہ سے قطر سے ایل این جی کی درآمد میں رکاوٹ اس بحران کی بڑی وجہ ہے۔
بجلی کی لوڈ شیڈنگ 4,500 میگاواٹ تک پہنچنے کے بعد حکومت نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جس میں پاور سیکٹر کو گیس کی فراہمی دگنی کرنا اور مہنگی ایل این جی کی خریداری شامل ہے۔
ماہرین نے طویل مدتی حل کے لیے متبادل توانائی اور نئی گیس فیلڈز کی تلاش پر زور دیا ہے
پاکستان میں قدرتی گیس کا شارٹ فال 600 ملین کیوبک فٹ یومیہ سے تجاوز کر گیا ہے، جس سے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ شدید ہو گئی ہے اور صنعتی، بجلی اور گھریلو صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
حکام اور انڈسٹری ذرائع کے مطابق، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) سمیت گیس کمپنیوں کے نظام میں کمی 600 سے 700 ملین کیوبک فٹ یومیہ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ 1,000 MMCFD سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
یہ بحران خاص طور پر قطر سے ایل این جی درآمدات میں رکاوٹ کی وجہ سے پیدا ہوا، جہاں علاقائی تنازعات (ایران کے تناظر میں) کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئی۔
پاکستان کا توانائی نظام روایتی طور پر تقریباً 2,700 ملین کیوبک فٹ یومیہ مقامی گیس فیلڈز سے حاصل کرتا ہے، جبکہ قطر سے تقریباً 600 MMCFD ایل این جی درآمد کی جاتی تھی۔
رواں سال کے آغاز میں تو کم طلب کی وجہ سے ایل این جی کا سرپلس تھا، لیکن اب وہی صورتحال الٹ گئی ہے۔ نتیجتاً بجلی کی لوڈ شیڈنگ 4,500 میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے، فیکٹریاں متاثر ہو رہی ہیں، اور CNG سٹیشنوں سمیت صنعتی یونٹس کو گیس کی سپلائی محدود یا معطل کر دی گئی ہے۔
حکومت نے ایمرجنسی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پاور سیکٹر کو مقامی گیس کی سپلائی تقریباً ڈبل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے (85-90 MMCFD سے بڑھا کر 160-170 MMCFD تک)، جبکہ CNG سیکٹر سے بھی کچھ گیس ڈائیورٹ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس کے علاوہ اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنے اور کچھ نئے تیل و گیس کنویں سے پیداوار بڑھانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران گرمیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
صارفین کو گھریلو استعمال میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ گیس کمپنیاں قیمتوں میں اضافے کی بھی درخواستیں دے چکی ہیں تاکہ ریونیو شارٹ فال پورا کیا جا سکے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ جلد ہی سپلائی بحال ہونے پر لوڈ شیڈنگ میں کمی آئے گی، لیکن ماہرین طویل مدتی حل جیسے نئی گیس فیلڈز کی تلاش، درآمدات میں تنوع اور متبادل توانائی ذرائع (جیسے سولر) کی طرف منتقلی پر زور دے رہے ہیں۔
فی الحال، لاکھوں گھرانوں اور کاروباروں کو اس گیس بحران کا سامنا ہے، جو پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
UrduLead UrduLead