’’کسی کی جان سے بڑھ کر کوئی وی آئی پی پروٹوکول نہیں‘‘
گلوکارہ اور اداکارہ نمرا مہرہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ذاتی زندگی کے کٹھن ترین لمحات، والدہ کی کینسر سے وفات، والد کے انتقال اور حکومتی پروٹوکول کے باعث پیش آنے والے تلخ تجربے پر کھل کر گفتگو کی۔
نمرا مہرہ نے بتایا کہ شوبز کیریئر کے آغاز ہی میں ان کی والدہ کینسر کا شکار ہو گئیں۔ اکلوتی بیٹی ہونے کے باعث علاج کی تمام ذمہ داریاں ان پر آ گئیں، جبکہ مہنگے علاج کے اخراجات پورے کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی وفات کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور صدمے سے گزریں اور ایک طویل عرصے تک اس کیفیت سے باہر نہ آ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ والدہ کے انتقال کے بعد ان کے والد نے ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کیا اور ہر مشکل وقت میں ان کا سہارا بنے۔ ان کے بقول، والد نے ہی انہیں دوبارہ موسیقی کے شعبے میں واپس آنے کا حوصلہ دیا اور ہمیشہ محبت سے ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔
نمرا مہرہ نے والد کی وفات کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 5 مارچ کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوران ان کے والد کو اچانک دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچنے کا کہا گیا، تاہم جیل روڈ پر وی آئی پی پروٹوکول کے باعث ٹریفک بند تھی، جس کی وجہ سے وہ تقریباً آدھے گھنٹے تک پھنسے رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی تاخیر کے دوران ان کے والد انتقال کر گئے۔ اس واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے نمرا نے کہا کہ “کسی کی جان سے بڑھ کر کوئی وی آئی پی پروٹوکول نہیں ہونا چاہیے۔ میرے والد کی جان بھی اتنی ہی قیمتی تھی جتنی کسی اور شہری کی۔”
انہوں نے وی آئی پی پروٹوکول کے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی آمدورفت روکنے کے بجائے ایسے متبادل انتظامات کیے جانے چاہئیں جن سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نمرا مہرہ نے مزید بتایا کہ والدین کی جدائی کا غم آج بھی ان کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی وفات کے برسوں بعد بھی عید اور دیگر خوشی کے مواقع پر والدین کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
اپنے فنی سفر کا ذکر کرتے ہوئے نمرا مہرہ نے کہا کہ کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ان کی گلوکاری سننے کے لیے ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں لوگ جمع ہو جاتے تھے، جبکہ شوبز انڈسٹری کے سینئر فنکاروں نے ان کے ٹیلنٹ پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔
انٹرویو کے اختتام پر نمرا مہرہ نے اپنے مرحوم والدین کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے تلخ تجربات نے انہیں پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیا ہے۔
UrduLead UrduLead
